خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 505 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 505

خطبات ناصر جلد چہارم خطبه جمعه ۱۰/ نومبر ۱۹۷۲ء استکانت کی وجہ سے جماعت کا ایک حصہ چھوڑ بھی دے تب بھی کوئی فرق نہیں پڑتا۔الہی مقصد و منشاء بہر حال پورا ہوگا۔خدا تعالیٰ ایک نئی قوم لے آئے گا جو صحیح طور پر قربانیاں دینے والی ہوگی۔جسے اپنے مقصد سے پیار اور اس کی عظمت کا احساس ہوگا۔جو خدا تعالیٰ کی عظمت اور اس کے جلال سے لرزاں و ترساں رہے گی۔وہ دُنیا کی ایذاء رسانی اور دُکھ دہی کی کوئی پرواہ نہیں کرے گی۔غرض اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جماعت الہیہ کو اس خطرہ سے ہمیشہ ہوشیار رہنا چاہیے اور ان کے اندروھن نہیں پیدا ہونا چاہیے کیونکہ جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ وھن در اصل مومن کے جوشِ عمل اور جذبہ جہاد میں کمزوری کی علامت ہے الہی جماعتوں کے اندر تو یہ جوش پایا جاتا ہے کہ ان کے ذمہ دین کا جو اہم کام ہے اسے انہوں نے بہر حال پورا کرنا اور خدا کے فضل اور اسی کی مہر بانی سے اس میں کامیاب ہونا ہے۔اسی لئے مومنین کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ اس جوش اور جذبہ میں کسی وقت کمی نہ آئے اور اس میں ضعف پیدا نہ ہو۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ایک جگہ وھن کے معنے بڑے حسین پیرایہ میں بیان فرمائے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔وَلَا تَهِنُوا فِي ابْتِغَاءِ الْقَوْمِ (النساء : ۱۰۵) فرما یا تم دشمن قوم کی تلاش میں سستی نہ کرو۔اب دشمن کی تلاش میں سستی کرنا۔یہ ضعف فی العمل کی ایک شکل ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہارے کام میں ضعف نہیں پیدا ہونا چاہیے ورنہ رابطہ قائم نہیں رہے گا۔فوج والوں نے ایک بڑا اچھا محاورہ ایجاد کیا ہے جب دشمن دو بدو لڑائی چھوڑ کر پیچھے ہٹ جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں دشمن سے Contact ( کانٹیکٹ ) یعنی تعلق نہ رہا یعنی جب لڑائی ہو رہی ہوتی ہے تو گویا لڑتے وقت دونوں فوجوں کا آپس میں ایک تعلق قائم ہوتا ہے لیکن جب کوئی شخص عین میدان جنگ سے کھسک جاتا ہے تو ایسی صورت میں کہتے ہیں اس کا دشمن سے تعلق ( کانٹیکٹ ) نہیں رہا چنا نچہ اللہ تعالیٰ نے فرما یا دشمن اگر تمہیں نقصان پہنچا کر اتنا دور ہو جائے کہ تمہاری گرفت سے نکل جائے تو پھر ابتغاء القوم کے اس الہی ارشاد کی رُو سے اس کا پیچھا کرنا