خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 502 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 502

خطبات ناصر جلد چہارم ۵۰۲ خطبہ جمعہ ۱۰ نومبر ۱۹۷۲ء استعمال کئے جاتے ہیں چنانچہ ان کا سب سے زیادہ استعمال اس محسنِ انسانیت کے خلاف رونما ہوا جو افضل الرسل تھا اور ابدی صداقتوں پر مشتمل ایک عظیم ہدایت لے کر بنی نوع انسان کی طرف مبعوث ہوا تھا۔جس نے یہ اعلان فرمایا تھا کہ اس میں یعنی قرآن کریم میں تمہاری عزت اور شرف کا سامان ہے۔پس یہ امر بڑا حیران کن ہے کہ بعض لوگ اس چیز سے بے اعتنائی برت رہے ہیں اور اس کی طرف توجہ نہیں کرتے جو اُن کے لئے عزت اور شرف کا سامان بہم پہنچاتی ہے۔علاوہ ازیں جہاں تک مال و جان کا تعلق ہے اس سلسلہ میں بھی دُکھ پہنچایا جاتا ہے۔چنانچہ ایک وقت میں مخالفین اسلام نے میان سے تلوار نکال لی اور کہا ہم مسلمانوں کو ذبح کر دیں گے قتل کر دیں گے ہلاک کر دیں گے ماردیں گے برباد کر دیں گے اور اسلام کا خاتمہ کر دیں گے۔گوجس غرض کے لئے تلوار نکالی گئی تھی وہ تو پوری نہ ہوئی اور نہ ہو سکتی تھی لیکن اُن حالات میں تلوار کے میان سے باہر آ جانے سے اسلام کے خلاف تلوار کو ہاتھ میں پکڑنے والوں کی نیتوں کا تو پتہ لگ گیا کہ وہ کیا چاہتے تھے۔اللہ تعالیٰ نے سورہ ممتحنہ کی مذکورہ آیت میں فرمایا ہے کہ مخالفین کو جب بھی موقع ملے ، وہ اپنے ہاتھ بڑھا بڑھا کر تمہاری ہلاکت کے سامان پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔وہ اموال کو لوٹتے بھی ہیں ان کو جلاتے بھی ہیں اور ان کو تباہ بھی کرتے ہیں ایسے لوگ بڑے نادان ہیں جو نہیں سمجھتے کہ ایک عظیم تحریک جو اس زمانے میں غلبہ اسلام کے لئے جاری کی گئی ہے (اور اس زمانہ سے مراد حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا زمانہ ہے ) اُسے بعض لوگوں کے بچگانہ افعال اور طفلانہ اور جاہلانہ اعمال کیسے روک دیں گے یا اس میں کمزوری پیدا کر دیں گے۔یہ تو ان کی سراسر نادانی ہے۔تاہم جس کے وہ دوست بن گئے ہیں وہ ان کو یہی سکھاتا ہے کہ دوسروں کے اموال لوٹ لو ، جلا دو اور تباہ و برباد کر دو۔پچھلے سال چیچہ وطنی میں چوہدری نذیر احمد صاحب باجوہ کے مکان کو جب آگ لگادی گئی تو چند دن بعد کچھ دوست میرے پاس آئے اور کہنے لگے یہ کیا ہو گیا ؟ میں نے کہا۔کیا ہو گیا ہے۔جو ہونا تھا وہ ہو گیا۔ایک واقعہ تھا جو چند دن میں گذر گیا۔ہمیں خدا تعالیٰ ان چند دنوں میں ہی کہیں سے کہیں لے گیا ہے۔پس میں نے ان سے کہا کہ ایک مکان