خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 485 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 485

خطبات ناصر جلد چہارم ۴۸۵ خطبہ جمعہ ۳/ نومبر ۱۹۷۲ء تاہم یہ اللہ تعالیٰ کے منشاء کے مطابق ہوتا ہے۔یہ نہیں ہو سکتا کہ اللہ تعالیٰ کا منشاء تو کچھ اور ہو اور شیطان کے عمل دخل سے کسی چیز کی کوئی اور شکل بن جائے گو یہ بار یک مسئلے ہیں لیکن ضرورت کے مطابق خطبات میں عمیق اور گہرے مضامین کو بھی بہت سادہ الفاظ میں اس لئے بیان کرنا پڑتا ہے کہ سننے والوں میں بعض بچے ہوتے ہیں کچھ لوگ ان پڑھ بھی ہوتے ہیں اور پھر مستورات بھی ہوتی ہیں ان کو بھی سمجھ آ جائے بلکہ میں تو یہ کہوں گا بعض پڑھے لکھے اور سمجھدار لوگ خطبے سے پورا استفادہ نہیں کرتے۔بعض پوری توجہ سے خطبہ کو سنتے ہیں بعض نصف تو جہ سے خطبہ کو سنتے ہیں۔بعض لوگوں کو خطبہ کے دوران کوئی خیال آجاتا ہے اور ان کی توجہ بٹ جاتی ہے بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ جو دوست دور بیٹھے ہوتے ہیں۔وہ نیم تربیت کی وجہ سے چندلمحوں کے لئے آپس میں باتیں کرنے لگ جاتے ہیں۔یا ویسے ہی ان کے دماغ میں خیالات آجاتے ہیں اور خطبہ کی طرف اُن کی کما حقہ توجہ قائم نہیں رہتی۔اس لئے خطبہ کے دوران خیالات سے بچنے اور توجہ کو قائم رکھنے کے لئے بھی کوشش کرنی پڑتی ہے۔غرضیکہ مختلف لوگوں کی توجہ کے مختلف معیار ہوتے ہیں۔بہر حال ہم یہ مثال دے سکتے ہیں کہ دیکھو پاس کھڑے ہوئے نمازی سے خدا تعالی زیادہ قریب ہے اور وہ واقعی بہت ہی قریب ہے کیونکہ وہ انسان کی دعاؤں کو سنتا ہے اور انہیں شرف قبولیت بخشتا ہے۔خدا تعالیٰ نے قبولیت دعا کو اپنے وجود کی دلیل قرار دیا ہے۔اس نے قبولیت دعا کو اپنی ذات وصفات کی معرفت کا ذریعہ ٹھہرایا ہے۔اس سے پتہ لگتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بڑی قدرتوں والا ہے وہ دعا کے نتیجہ میں بسا اوقات ان ہونی بات کو ہونی کر دیتا ہے۔یہاں تک کہ وہ انسان کی اس آواز کو بھی جانتا ہے جس نے ابھی الفاظ کا جامہ بھی نہیں پہنا ہوتا کیونکہ اس کا علم انسان کے مخفی اندرونہ اور باطنی آرزوؤں پر بھی محیط ہے۔ہمارا سر خدائے قادر وتوانا کے سامنے جھک جاتا ہے کہ ادھر دل میں دعائیہ خیال آتا ہے اور اُدھر وہ دعا قبول بھی ہو جاتی ہے۔غرض اللہ تعالیٰ کی عجیب شان ہے۔میں نے اس کی قدرتوں کا بار ہا تجربہ کیا ہے۔میں اس کی کئی مثالیں پہلے بیان کر چکا ہوں بہت ساری ایسی بھی ہیں جن کے بتانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔بہر حال خدا تعالیٰ کی ذات وصفات کی ایک دلیل قبولیت دعا دی گئی ہے اور یہ ایک بڑی زبردست دلیل ہے۔بڑی زبردست ہے