خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 484
خطبات ناصر جلد چہارم ۴۸۴ خطبہ جمعہ ۳/ نومبر ۱۹۷۲ء آثار نمایاں طور پر پیدا ہور ہے ہیں۔فَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَالِكَ - رمضان کا جمعہ کے ساتھ ایک بڑا ہی گہرا تعلق ہے قبولیت دعا کا جو حبل اور رسہ ہے اس نے جمعہ اور رمضان کو ایک ساتھ باندھ دیا ہے۔چنانچہ قرآن کریم میں رمضان کے متعلق بہت سے احکام بیان ہوئے ہیں انہی احکام کے ضمن میں اللہ تعالیٰ اس آیہ کریمہ میں جس کی میں نے شروع میں تلاوت کی ہے فرماتا ہے جب میرے بندے میرے متعلق سوال کریں (اس آیہ کریمہ کے ایک پہلو کے متعلق میں پچھلے خطبہ میں بھی بیان کر چکا ہوں ) تو ان سے کہو۔میں قریب ہوں اور میرے قرب کی دلیل یہ ہے کہ مجھ سے دعا کرو گے میں قبول کرلوں گا۔اب مثلاً ہم نماز میں جو دعائیں کرتے ہیں تو ہمارے ساتھ کھڑا ہوا آدمی بھی نہیں سن رہا ہوتا مگر خدا تعالیٰ سن رہا ہوتا ہے۔جس کا مطلب یہ ہے کہ جو نمازی ہمارے دائیں بائیں کھڑے ہیں خدا تعالیٰ اُن سے بھی زیادہ قریب ہے۔ہمارے دائیں بائیں کھڑے ہونے والے نمازیوں کو جو آواز نہیں پہنچتی وہ اللہ تعالیٰ کو پہنچ جاتی ہے۔ویسے تو یہ ایک گہرا مضمون ہے لیکن بچوں کو سمجھانے کے لئے ایک عام اور سیدھے سادے آدمی کو ذہن نشین کرانے کے لئے یہ مثال دی جاسکتی ہے کہ دائیں طرف کھڑے نمازی تک آواز نہیں پہنچی۔بائیں طرف کھڑے ہوئے نمازی تک آواز نہیں پہنچی۔مگر اللہ تعالیٰ تک پہنچ گئی۔اس سے ایک بچہ بھی یہی نتیجہ نکالے گا کہ دائیں اور بائیں طرف کھڑے ہونے والے نمازیوں کی نسبت اللہ تعالی زیادہ قریب ہے یہاں تک کہ قرآن کریم کی ایک اور آیت کی رو سے اللہ تعالیٰ انسان کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے۔انسان اپنے نفس اور اپنی روح سے اتنا قریب نہیں جتنا اللہ تعالیٰ انسان کے قریب ہے۔حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی حقیقت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ انسان کا دل اللہ تعالیٰ کی انگلیوں میں مختلف زاویوں اور مختلف حالتوں میں ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ کبھی انسان کے دل کو نیکی کی طرف لے جاتا ہے اور کبھی انسان کے اپنے گناہوں کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ بطور سزا کے جہنم اور عذاب کی طرف اس کا زاویہ کر دیتا ہے۔کبھی انسان کی نیکی اُسے مزید نیکیوں کی توفیق بخشتی ہے اور کبھی انسان کی بدیاں اسے مزید بدیوں کی طرف گھسیٹ کر لے جاتی ہیں۔