خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 483 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 483

خطبات ناصر جلد چہارم کے دن گزار نے چاہئیں۔۴۸۳ خطبہ جمعہ ۳/ نومبر ۱۹۷۲ء پس یہ تو ایک حقیقت ہے کہ رمضان کا یہ آخری جمعہ ہے مگر اسے جمعتہ الوداع کہہ کر اس کے گرد بہت ساری غلط باتیں لپیٹ دینا اسلام کی اصل روح کو نہ سمجھنے کے مترادف ہے۔اس بات سے تو انکار نہیں کیا جا سکتا کہ یہ رمضان کا آخری جمعہ ہے۔اس لئے بدعات سے قطع نظر ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ یہ جمعہ رمضان کو الوداع کہتا ہے۔کیونکہ اس کے بعد رمضان کا اور کوئی جمعہ نہیں۔جمعہ خود تو نہیں بولتا۔جمعہ کے دن تو خطبہ ہوتا ہے پس جمعہ کا رمضان کو الوداع کہنے کا مطلب یہ ہوگا کہ امام اور خطیب کو ماہ رمضان میں اجتماعی نصیحت اور وعظ کرنے کا یہ ایک آخری موقع ہے۔پاک ایک جمعہ آیا پھر دوسرا پھر تیسرا جمعہ آیا اور اب یہ جمعہ آخری جمعہ ہے اس کے بعد رمضان کے باقی دنوں میں امام جماعت یا خطیبوں کے لئے لوگوں کو وعظ ونصیحت کرنے اور حکمت اور روحانیت کا درس دینے کا موقع نہیں پیدا ہوگا۔اس رمضان میں جو چیز نمایاں طور پر میرے مشاہدہ میں آئی ہے وہ بڑی خوشکن ہے۔گو میں باقاعدگی سے ریڈیو تو نہیں سنتا لیکن کبھی تقریروں وغیرہ کا پروگرام ہو تو سن لیتا ہوں۔اس دفعہ رمضان کے متعلق جو تقریریں یا درس قرآن کریم ریڈیو کے ذریعہ نشر ہوتے رہے ہیں اُن میں سے چند ایک میں نے بھی سنے ہیں۔میں نے بتایا ہے کہ میں کبھی کبھی ریڈیو سنتا ہوں۔چنانچہ ایک دن رات کے وقت جب میں نے ریڈیو سنا تو ایک مولوی صاحب پچیسویں سیپارہ کا درس دے رہے تھے۔اس سے میں نے اندازہ لگایا کہ ہر شام کو کسی معینہ وقت پر یہ درس بھی ہوا کرتا ہے۔اس کے بعد چند مرتبہ اُن کا درس میں نے اس غرض کے لئے سنا کہ وہ اپنے درس میں کیا بیان کرتے ہیں۔چنانچہ میں نے دیکھا ہے کہ ان درسوں اور تقریروں وغیرہ میں یا جو مضامین اخبارات میں شائع ہوتے رہے ہیں ان میں زیادہ تر اسلام کے متعلق جو صحیح خیالات ہیں یعنی جماعت احمدیہ کے جو خیالات ہیں ان سے ملتے جلتے خیالات کا اظہار ہوتا رہا ہے۔جو اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ قوم کی اصلاح کے لئے کثرت سے فرشتے نازل کر رہا ہے اور ہماری دعائیں جو ہم رمضان میں غلبہ اسلام کے لئے کرتے چلے آئے ہیں اور کر رہے ہیں ان کی قبولیت کے