خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 476
خطبه جمعه ۱۷۲۰ کتوبر ۱۹۷۲ء خطبات ناصر جلد چہارم ہے۔اس ہدایت پر چلنے کیلئے ، اس کو اپنانے کے لئے اس کی روشنی میں یہ حصہ رسدی اللہ تعالیٰ کی صفات کا مظہر کامل بننے کے لئے یعنی اپنی اپنی استطاعت کے مطابق مظہر صفات باری بننے کے لئے اللہ تعالیٰ کے فیض کی ضرورت ہے دراصل انسان کا روحانی قوی کا مالک بن جانا اور اللہ تعالیٰ نے اس کے اندر جو قویٰ پیدا کئے ہیں اُن کی کمال نشو و نما کے لئے صرف آسمانی ہدایتوں کا نازل ہونا ہی کافی نہیں ہے۔انسان اُن سے اس وقت تک فائدہ نہیں اُٹھا سکتا جب تک خدا تعالیٰ کا فضل اس کے شامل حال نہ ہو اور اللہ تعالیٰ کے فضل کو انسان دعاؤں کے ذریعہ ہی جذب کر سکتا ہے۔غرض اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں نے تمہیں قو تیں عطا کیں اور روحانی قوتوں کی نشوونما کے لئے آسمانی ہدایت نازل کی تاکہ تم اس قابل ہو جاؤ کہ تم اپنی اپنی استعداد کے مطابق میرے عبد بنو۔میرا قرب حاصل کرو اور میری صفات کے مظہر بنو لیکن تم محض اپنی کوشش سے کچھ بھی نہیں بن سکتے۔جب تک میرا ( اللہ ) کا فضل آسمان سے نازل نہ ہو اور اللہ تعالیٰ کی رحمت اور محبت کے نتیجہ میں تم پر آسمانی فیوض کی بارش نہ بر سے۔پس جیسا کہ میں نے بتایا ہے اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت کا نزول دعا کا متقاضی ہے اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا اُدْعُونِي اَسْتَجِبْ لَكُم (المؤمن: ۶۱) تم مجھ سے مانگو میں تمہیں دوں گا۔اس میں یہ حقیقت بھی سامنے رکھنی چاہیے کہ انسان کی پیدائش سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل اور رحمت کے دروازے اس پر وا کر دیئے گویا انسان ادھر پیدا ہوتا ہے اور ادھر اس کی قوتوں اور صلاحیتوں کی نشوونما کے سامان مہیا ہو جاتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ تخلیق کا ئنات اور انسانی پیدائش سے لے کر انسانی قومی زبانِ حال سے مانگتے اور پاتے رہے ہیں۔پیدائش عالم تو انسان کی کسی دعا کا نتیجہ نہیں۔اُس وقت تو انسان کا وجود ہی نہیں تھا۔یہ تو خدا تعالیٰ کی مشیت تھی کہ دُنیا میں ایک ایسا وجود پیدا ہو جو اس کی صفات کا مظہر بنے اس لئے اُس نے اُس کا ئنات کو پیدا کیا۔قرآن کریم نے اسی مضمون پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔اس وقت چونکہ اس کا میرے مضمون کے ساتھ تعلق نہیں ہے اس لئے میں نے اس کا مجملاً ذکر کیا ہے اس حقیقت کو واضح کرنے کے لئے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو مادی وجود عطا فرمایا ہے اس میں جسمانی، ذہنی، اخلاقی اور