خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 477 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 477

خطبات ناصر جلد چہارم ۴۷۷ خطبه جمعه ۱۷۲۰ کتوبر ۱۹۷۲ء روحانی قوتیں اور استعدادیں ودیعت کی گئی ہیں۔ان قومی کی نشوونما کے لئے زمین و آسمان کی پیدائش کی ضرورت تھی چنانچہ انسانی قومی زبانِ حال سے یہ دعا کر رہے تھے کہ اے خدا! تو نے قومی عطا کر دیئے۔ان کی پرورش نہیں ہو سکتی۔جب تک تیر افضل اور رحم شامل حال نہ ہو۔اللہ تعالیٰ نے زبانِ حال کی اس دعا کو قبول فرمایا اور اس کائنات کو پیدا کر دیا۔انسان کو خدا تعالیٰ کا عبد بننے کے لئے صرف زمینی کا ئنات کا فی نہیں تھی۔یہ تو ایک ابتدا تھی انسانی زندگی کی ، یہ تو ایک تمہید تھی کارخانہ حیات کی اور یہ تو ایک بنیاد تھی جس پر معاشرتی زندگی قائم کی گئی تھی۔آگے اس عمارت کی خوبصورتی اور پائیداری کے لئے اخلاقی اور روحانی قوتوں کی نشوونما کی ضرورت تھی۔چنانچہ انسان کی ان خوابیدہ قوتوں نے زبانِ حال سے یہ دعا کی کہ اے خدا!! قو تیں تو مل گئی ہیں لیکن محض ان قوتوں سے تو وہ مقصد پورا نہیں ہوسکتا جس کے لئے تو نے انسان کو پیدا کیا ہے۔انسان تیرا حقیقی عبد نہیں بن سکتا جب تک اس کی اخلاقی اور روحانی قوتوں کی بھی نشو و نما نہ ہو اس لئے ان کی کمال نشو و نما کا سامان بھی ہونا چاہیے۔تو گویا ان قوتوں کی نشو و نما کے لئے آسمانی ہدایت کی ضرورت تھی جس کا اظہار دعائیہ رنگ میں زبانِ حال سے ہوا اور جو انبیاء علیہم السلام کی بعثت کے ساتھ پوری ہوتی رہی۔جہاں تک زبانِ حال سے دعا کرنے کا سوال ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی فرمایا ہے کہ ایک تو جاہل کی دعا ہوتی ہے اور ایک عارف کی دعا ہوتی ہے۔آپ نے فرمایا بعض دفعہ دہر یہ سائنسدان کوشش کرتے کرتے ایسے مقام پر پہنچ جاتے ہیں جہاں اُن کو کچھ سمجھ نہیں آتی اُن کیلئے سارے راستے بند ہو جاتے ہیں تب بے چینی اور گھبراہٹ کی وجہ سے ان کی فطرت کسی نامعلوم منبع کو اپیل کرتی اور اس سے دعائیں مانگتی ہے۔وہ لوگ گو خدا کو تو نہیں پہچانتے لیکن اندھیرے میں اِدھر اُدھر ہاتھ مارتے ہیں۔جسے اللہ تعالیٰ ان کی دعا سمجھ لیتا ہے اور بسا اوقات ان پر اپنے فضل نازل کرتا ہے۔پس یہ بھی زبانِ حال کی ایک دعا ہے۔گو یہ ناقص دعا ہے لیکن ہے یہ بھی ایک قسم کی دعا جو اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ قوتوں میں ہر ایک قوت کی زبانِ حال کی دعا پر دلالت کرتی ہے جس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ انسانی قوتوں کی نشو ونما کے لئے