خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 475 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 475

خطبات ناصر جلد چہارم ۴۷۵ خطبه جمعه ۷۲۰ اکتوبر ۱۹۷۲ء سے انہیں آسمانی ہدایت عطا فرمائی۔چنانچہ پہلے زمانہ میں رسولوں کی کثرت جہاں اللہ تعالیٰ کے قرب پر دلالت کرتی ہے۔وہاں ضرورتوں اور استعدادوں میں اختلاف بھی ظاہر کرتی ہے ہر علاقہ بلکہ بعض دفعہ تو قریب کے دو شہروں کی ضرورت کے اختلاف کو مدنظر رکھتے ہوئے رسول مبعوث ہوئے تا کہ خدا کی آواز ہر جگہ پہنچ جائے۔یہ کام ایک عظیم اور قریب ہستی ہی کر سکتی ہے اور وہی اس کا خیال رکھ سکتی ہے یعنی ہر زمانہ میں ہر علاقہ کی روحانی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے خدا تعالیٰ کا انبیاء کو بھیجنا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نظر اور اس کا علم زمان و مکان کی وسعتوں پر محیط ہے۔پس پہلے زمانہ میں انبیاء علیہم السلام نے اپنے اپنے ملک اور علاقہ کے حالات کے لحاظ سے اور اپنے قویٰ کی نشو و نما اور اس کے استحقاق کے لحاظ سے جن چیزوں کو حاصل کیا ، اُن میں اختلاف پایا جاتا تھا۔چنانچہ بنی اسرائیل کے رسولوں کو جس ہدایت کی ضرورت تھی وہ اُن کو دی گئی۔ہندوستان اور چین میں بسنے والوں کو جس ہدایت کی ضرورت تھی وہ ان کو دی گئی۔ہر دو قسم کی ہدایت خدا کے رسول لے کر آئے مگر ان دونوں میں اختلاف پایا جاتا ہے۔مذہبی دُنیا میں دوسرا اختلاف ہمیں یہ نظر آتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک ہدایت نازل ہوئی۔اس کے ماننے والے مختلف الخیال ہو گئے ہر ایک گروہ نے اپنے مطلب کا ایک حصہ لے لیا اور اس پر فخر کرنے لگ گئے یعنی ایک ہی نبی کی اُمت جب بعد میں بگڑی تو اس نے آپس میں اختلاف کیا اور لوگ مختلف گروہوں میں بٹ گئے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا قرآن کریم تمہارے لئے فرقان بن کر آیا ہے۔وہ تمام مذہبی اختلافات خواہ پہلی قسم سے تعلق رکھتے ہوں یا دوسری قسم سے تعلق رکھتے ہوں یہ اُن کو دور کرنے والا ہے۔کیونکہ یہ فرقان ہے۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے دراصل’عبد “ کا لفظ اس آیت کے مفہوم کے سمجھنے کی کنجی ہے۔اللہ تعالیٰ کی صفات کا مظہر بننے کے لئے جس قسم کی ہدایت کی ضرورت تھی وہ ہدایت دے دی گئی یعنی انسان مختلف مدارج میں سے گزرا ہے اُسے تاریخ کے مختلف مراحل میں مختلف قسم کی ہدایتوں کی ضرورت تھی وہ اسے دے دی گئیں اور اب اُسے ایک کامل ہدایت خدا تعالیٰ کی طرف سے ملی