خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 474
خطبات ناصر جلد چہارم ۴۷۴ خطبه جمعه ۷۲۰ اکتوبر ۱۹۷۲ء یہ اور چیز ہے۔میرے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اس کی توجہ بھی انسان کی طرف رہتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے انسان کی ہر بدلی ہوئی حالت کے مطابق اس کی ضرورتوں کے پورا کرنے کا سامان پیدا کیا اور پھر بالآخر قرآن کریم کی شکل میں اُس نے ایک کامل ہدایت حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمائی۔کیونکہ بعثت نبوی کے وقت انسان اپنے شعور میں اس مقام تک پہنچ چکا تھا اور انسان اس قابل ہو گیا تھا کہ ایک کامل ہدایت اور مکمل شریعت کا بوجھ اپنے کندھوں پر اُٹھا سکے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اے لوگو! تم دیکھتے نہیں۔میں نے تمہارے لئے رمضان کے مہینے میں ایک ایسی ہدایت نازل کی ہے جو ھدی للناس ہے جس میں سب بنی نوع انسان کے لئے ہدایت کے سامان موجود ہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ چونکہ پہلی ہدا یتیں محدود تھیں اور محدود ہونا بھی ایک نقص ہے اس لئے جب ہم پہلی ہدایتوں کو ناقص کہتے ہیں تو اس معنی میں ناقص کہتے ہیں کہ وہ محدود تھیں بوجہ اس کے کہ اس زمانے کی ضرورتیں محدود تھیں اور بوجہ اس کے کہ انسان اپنی مادی اور روحانی نشوونما میں اپنے کمال کو نہیں پہنچا تھا۔اس لئے فرمایا اس قرآن عظیم کے ذریعہ وہ علوم بیان کر دیئے گئے ہیں جن کا ذکر پہلی ہدایتوں میں نہیں ہے۔یہ قرآن کریم ہی ہے جو ایک کامل ہدایت کی شکل میں نازل ہوا ہے۔اس کے نزول سے پہلے انسان کے ذہنی ، اخلاقی اور روحانی قومی اس قابل نہیں تھے کہ اُن کی نشو و نما کے لئے کامل ہدایت نازل ہوتی۔اس لئے اگر چہ بعض ہدایات کا انہیں اجمالاً علم دیا جاتا رہا لیکن مکمل علم نہیں دیا گیا کیونکہ وہ اس کو کماحقہ حاصل کرنے کے قابل نہیں تھے لیکن قرآن عظیم کے زمانے کا انسان اس قابل ہو گیا کہ وہ بَيِّنتٍ مِّنَ الهُدی کا حامل بن سکے۔چنانچہ وہ جو پہلی ہدایتوں میں اجمال پایا جاتا تھا قرآن کریم نے اس کی تفصیل بیان کی گویا انسان کو ایک ارفع مقام پر پہنچ جانے کی وجہ سے قرآن کریم کے ذریعہ ہدایت کی نئی اور پر حکمت باتیں بتائی گئیں یعنی وہ ہدایتیں جو مجملا پہلوں کو دی گئی تھیں وہ تفصیل کے ساتھ سیدنا حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ بنی نوع انسان کو بتا دی گئیں۔پھر قرآن کریم کی تیسری خوبی یہ ہے کہ یہ فرقان ہے۔قرآن کریم نے ہمیں یہ بتایا ہے کہ قریہ قریہ اور ملک ملک خدا کے رسول آئے۔اللہ تعالیٰ نے اُن کی ضرورتوں اور طاقتوں کے لحاظ