خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 462
خطبات ناصر جلد چہارم ۴۶۲ خطبه جمعه ۱۳ /اکتوبر ۱۹۷۲ء کے معنے ( بعض ان معانی سے مختلف ہو جائیں گے جو اس سے پہلے ہماری جماعت میں یا اس سے پہلے بھی بیان ہو چکے ہیں ) میں اب بیان کروں گا۔اللہ تعالیٰ نے اس سورہ میں بتایا ہے کہ ان تین ابتدائی روحانی انقلابات کا کامیابی کے ساتھ ختم ہو کر ایک انقلاب عظیم کے زمانہ میں داخل ہو جانا ایک ایسا امر ہے جس سے بہت سی صداقتوں کا حقیقتوں کا ہمیں علم حاصل ہوتا ہے اس سے ایک تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ لَقَد خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ (التین: ٥) اللہ تعالیٰ نے انسان کو احسنِ تقویم میں پیدا کیا ہے یعنی ان انقلابات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ انسان کی پیدائش احسنِ تقویم کے رنگ میں ہوئی ہے۔احسنِ تقویم کے مختلف معنی کئے گئے ہیں جو سارے کے سارے لغوی معنی کے مطابق ہی ہیں۔اس وقت میں جو معنی بیان کروں گا وہ یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو وہ تمام قوتیں اور استعداد میں عطا فرمائی ہیں جن سے وہ سب عالمین کی پوری طرح تسخیر کر سکتا ہے۔تسخیر کے معنی عربی میں یہ ہوتے ہیں کہ اس نے اس عالمین میں جو کچھ بھی پیدا کیا ان سے خدمت لینے کی اہلیت انسان کے اندر پیدا کر دی گئی ہے۔اسے وہ تمام قومی دئے گئے ہیں جن کے نتیجہ میں وہ اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ اشیاء کو اپنی ضرورت کے مطابق استعمال کر سکتا ہے اور (۲) دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ نے وہ تمام قوتیں انسان میں ودیعت فرما ئیں جن کے نتیجہ میں ان مخلوقات سے اس رنگ میں خدمت لے سکتا ہے کہ وہ اسے اس کے قومی کی آخری نشو ونما تک لے جائیں اور وہ اللہ تعالیٰ کے قرب کی منزلیں طے کرتا ہوا خدا کی رضا کو زیادہ سے زیادہ حاصل کر سکے یعنی وہ قو تیں جو ایک طرف پیدائش عالمین کے مقصد کو پورا کرنے والی ہیں اور جس کا منتہاء مقصود حدیث قدى لَوْ لَاكَ لَمَا خَلَقْتُ الْأَفَلات کی رو سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہے بہر حال اس عالمین کی تمام چیز میں اس لئے پیدا کی گئی ہیں کہ ان سے انسان فائدہ حاصل کرے انسان کو وہ ساری قوتیں دی گئیں کہ انسان اس سے فائدہ حاصل کر سکے اور ان سے خدمت لے سکے تو ایک طرف انسان اس قابل ہے اور اس قابلیت کو اس نے ثابت کیا ہے کہ اس نے مخلوقات سے خدمت لی اور اس کے نتیجہ میں مقصد پیدائش عالمین پورا ہوا اور دوسرے اسے وہ تمام قو تیں بخشی گئیں تا کہ اس