خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 463 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 463

خطبات ناصر جلد چہارم ۴۶۳ خطبه جمعه ۱۳ /اکتوبر ۱۹۷۲ء عالمین کی خدمت کے نتیجہ میں وہ زیادہ سے زیادہ روحانی ترقیات حاصل کر سکے اور احسن رنگ میں اللہ تعالیٰ کا عبد بن سکے جس سے پیدائش انسانی کا مقصد پورا ہو۔پس یہ خدمتیں ایسی ہیں کہ پیدائش (خلق) کے ہر دو مقاصد کو پورا کرنے والی ہیں یعنی پیدائش عالمین کے مقصد کو بھی اور پیدائش انسانی کے مقصد کو بھی پورا کرتی ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم ان انقلابی ادوار پر غور کر وجن کا یہاں ذکر کیا گیا ہے جو حضرت آدم سے لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ تک پھیلے ہوئے ہیں ( آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت پر انسان چوتھے دور میں داخل ہو چکا ہے ) تم ان پر غور کرو تو اس نتیجہ پر پہنچو گے کہ انسان کو احسن تقویم میں پیدا کیا گیا ہے۔انسان کی جد و جہد اور اس کے مجاہدہ سے پیدائش عالم کا مقصد بھی پورا ہوتا ہے اور اس سے پیدائش انسانی کا مقصد بھی پورا ہوتا ہے۔دوسرے ان زبر دست ادوار میں سے آخری عظیم انقلاب کے نتیجہ میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ انسانوں کا ایک گروہ اپنی قوتوں کا صحیح استعمال نہ کرنے کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی سزا کا مستحق ہو جاتا ہے اور جن انعامات کے حصول کے لئے اللہ تعالیٰ نے ان میں قو تیں اور استعدادیں پیدا کی تھیں ان انعامات کے حصول سے وہ محروم ہو جاتے ہیں اور ان کا نام اس گروہ میں شامل ہو جاتا ہے جسے ہم اسفَلَ سَفِلِينَ (التین:۶) کہتے ہیں کیونکہ ایک چیز مثلاً زمین سے اٹھی اور پچاس گز او پر گئی۔اگر وہ ناکام ہوگی تو پچاس گز نیچے آجائے گی۔ایک چیز جس میں طاقت رکھی گئی ہے دوسوگز اوپر جانے کی تو وہ دوسوگز اوپر گئی اور پھر اپنی جگہ پر واپس آ جائے گی۔انسان میں طاقت رکھی گئی ہے نچلی سے نچلی جگہ سے بلند ہو کر بلند سے بلند تر مقام تک پہنچنے کی۔جس وقت وہ ناکام ہوگا تو مخلوقات کے مقابلے میں بھی کہیں نیچے جا گرے گا۔یہی قانون قدرت ہے یہی قانونِ شریعت ہے اور یہی قانونِ روحانیت ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان انقلابات کا یہ نتیجہ ظاہر ہوتا ہے کہ کچھ لوگ أَسْفَلَ سَفِلِينَ کے گروہ میں اس لئے شامل ہو گئے کہ انہوں نے اپنی قوتوں اور استعدادوں کا صحیح استعمال کر کے ان نعمتوں کو حاصل نہیں کیا جن کے لئے اس عالمین کو اور ان کے وجود کو پیدا کیا گیا تھا۔تیسری چیزان انقلابات سے یہ ظاہر ہوتی ہے کہ باوجود اس کے کہ شیطان یا ظلمات کا مالک