خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 27
خطبات ناصر جلد چہارم ۲۷ خطبہ جمعہ ۲۸ جنوری ۱۹۷۲ء ہے اگر ان میں سے نوے ہزا ر اپنے دائرہ استعداد کے مطابق یعنی لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا میں جس قسم کے مکلف ہونے کا ذکر ہے اس کے مطابق اپنی ذمہ داریوں کو اپنے دائرہ استعداد کی انتہا تک پہنچا دے اور دس ہزار نہ پہنچا ئیں تو جو کام دس ہزار سے رہ گیا ہے، کسی اور کی طاقت ہی نہیں ہے کہ وہ پورا کر سکے۔یہ بالکل ناممکن ہے خدا تعالیٰ نے اس کو پورا کرنے کی طاقت ہی نہیں دی پس اگر یہ کمی رہ گئی تو ایک لاکھ آدمی اپنے مقام کی انتہا کو نہیں پہنچ سکے گا کیونکہ دس ہزار نے کمزوری دکھا دی۔پھر فرمایا کہ انسان کو اس کی سعی کے مطابق ہی ملا کرتا ہے۔میں اب یہاں یہ معنی کروں گا کہ بنی نوع انسان کیونکہ ان کی سعی کا جو مجموعہ ہے اس کی انتہا کے مطابق قوم ترقی کرتی ہے ویسے ہر فرد بھی اپنی سعی کے مطابق ہی پاتا ہے۔بچوں کو سمجھانے کے لئے میں ایک مثال دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اگر کسی کو نتوار و پیہ دینا چاہے اور وہ دو پر راضی ہو جائے تو اس نے خود کو اٹھانوے سے محروم کر دیا۔اگر کوئی فرد خدا تعالیٰ کی اعلیٰ سے اعلیٰ نعمتوں کے حصول کی استعداد رکھتا تھا یعنی اتنی استعدا د رکھتا تھا کہ وہ خدا کے حضور ایسی قربانیاں پیش کر سکے کہ خدا تعالیٰ کے اعلیٰ سے اعلیٰ انعام جو امت محمدیہ میں کسی کومل سکتے ہیں، وہ پالے اگر اس نے وہ کوشش نہیں کی تو وہ خود کو محروم کرتا ہے اور جو قوم بحیثیت قوم اس لئے پیدا کی گئی کہ وہ دنیا کی معلم اور ہادی بنے اس قوم کے ہر فرد کو اپنی قوت کے مطابق اپنی قربانی انتہا تک پہنچا دینی چاہیے اور قوت تو بدلتی رہتی ہے (اس تفصیل میں مجھے جانے کی ضرورت نہیں۔میں اس کی وضاحت کر چکا ہوں ) کیونکہ نشوونما ہورہی ہے اور طاقت بڑھتی چلی جارہی ہے۔آپ کوئی وقت لے لیں اگر انہوں نے اس وقت کی طاقت کے مطابق اپنی قربانیوں کو انتہا تک پہنچا دیا تو وہ قوم اس وقت کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ کے انتہائی انعامات کی وارث بن گئی لیکن اگر بعض نے خدا تعالیٰ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اپنی قربانیوں کو انتہا تک پہنچادیا اور وہ دائرہ استعداد کی حد بندی کرنے والی آخری لکیر تک پہنچ گئے اور بعض نے اپنی طاقت کی انتہا تک قربانیاں نہ دیں تو بحیثیت مجموعی قوم یا جماعت ان انعامات کی وارث نہیں بن سکتی ، جن کے لئے اسے پیدا کیا گیا ہے (اس حساب میں منافقین کو اس گروہ سے باہر