خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 449
خطبات ناصر جلد چہارم ۴۴۹ خطبہ جمعہ ۶ را کتوبر ۱۹۷۲ء سمجھنا چاہیے کہ یہ اعمالِ صالحہ کے پانی کامنبع اور سر چشمہ ہے۔اعمالِ صالحہ کا پانی گو یا عاجزی کے سر چشمہ سے جوش مارتے ہوئے باہر نکلتا ہے۔چنانچہ خشوع اور تضرع کے ساتھ جب بیچ کی حفاظت ہو جاتی ہے تو دوسری کیفیت یہ ہے کہ ہلکی سی روئیدگی زمین سے باہر نکلے۔بڑا درخت ہو یا فصلیں ہوں ، پہلے ان کی ایک بالکل نازک سی کونپل نکلتی ہے۔انسان کی بچپن کی عمر میں وہ نزاکت نہیں ہوتی جو ان کو نپلوں میں پائی جاتی ہے۔اُن میں خدا تعالیٰ کی بڑی شان نظر آتی ہے جس پر دوستوں کو غور کرنا چاہیے۔پھر سبزہ یعنی چھوٹی چھوٹی شاخیں نکلتی ہیں۔ساتھ ہی درخت کی یا فصلوں کی جڑوں میں بعض گندی اور ضرر رساں بوٹیاں اُگ آتی ہیں جو اصل درخت یا فصل کی غذا کو چوس لیتی ہیں اس لئے اگر اُن کو نکالا نہ جائے تو یہ درخت کی پرورش میں روک بنتی اور بسا اوقات اس کی ہلاکت کا باعث بھی بن جاتی ہیں۔اسی طرح ایمان کے بیج سے جو روئیدگی نکلتی ہے اس کی سرسبزی و شادابی کا انحصار لغو باتوں کے چھوڑنے پر ہے۔جس طرح خود رو جڑی بوٹیاں اصل فصل کے لئے نقصان دہ ہوتی ہیں اسی طرح لغو باتیں، پراگندہ خیالات اور بیہودہ عمل، ایمان کے درخت کے لئے ضرر رساں ہوتے ہیں۔اس لئے لغو باتوں سے ہمیشہ اعراض کرنا چاہیے اور اس کے مقابلے میں پسندیدہ اور مفید باتوں کو اختیار کرنا چاہیے مثلاً کھیتوں کے لئے ہر قسم کی کھا دمفید ہے۔اس سے اس کی سرسبزی اور شادابی میں اضافہ ہوتا ہے۔نشو نما میں کوئی روک نہیں پیدا ہوتی۔اسی طرح لغو باتوں کے اعراض سے وہ روکیں دور ہو جاتی ہیں جو حسنات کے راستے میں حائل ہوتی ہیں۔پھر اس درخت پر ایک تیسرا دور آتا ہے اور وہ یہ کہ روئیدگی اب ٹہنیوں کی شکل میں بدل جاتی ہے اسی طرح خدا تعالیٰ کی راہ میں اموال خرچ کرنے سے ایمانی درخت کی ٹہنیاں نکل آتی ہیں اور اُن میں کسی قدر مضبوطی بھی آجاتی ہے۔گوٹہنیاں نکل آئیں لیکن ابھی کونپلیں ہری اور نرم ہیں اُن کے اندر پوری سختی اور مضبوطی نہیں آئی۔چنانچہ پھر چوتھا مرحلہ آتا ہے اور یہ شہوات نفسانیہ سے مقابلہ کرنے کا مرحلہ ہے لیکن اس سے پہلے تیسرے مرحلے میں صدقہ و خیرات اور زکوۃ کے علاوہ اموال خرچ کرنے سے تعلق رکھنے والے دوسرے احکام کے نتیجہ میں جو نرم نرم شاخیں نکلی تھیں