خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 423
خطبات ناصر جلد چہارم ۴۲۳ خطبه جمعه ۸ ستمبر ۱۹۷۲ء اب اس مقدمہ میں مجاوروں پر وہ اپنا حق فائق سمجھتے تھے ہمارے نزدیک نہ تو کسی مجاور کا حق ہے اور نہ کسی اور کا۔بہر حال مقابلہ مجاوروں اور ان کے درمیان تھا اور چھ سات دن کے بعد جج نے فیصلہ سنانا تھا۔خیر وہ چلے گئے جس دن حج نے فیصلہ کرنا تھا اس سے ایک روز پہلے پھر میرے پاس آگئے۔(یہ کالج کے زمانہ کی بات ہے اُس وقت میں کالج کی کوٹھی میں رہتا تھا ) مجھے اطلاع ملی تو میں بڑا گھبرایا۔کیونکہ ہم ان لوگوں کی طرح نہیں ہیں جو ادھر اُدھر کی باتیں کر کے ٹال دیتے ہیں۔میں نے سوچا اگر میں نے سچی بات کہہ دی تو ان کو تکلیف ہوگی۔میں سوچ ہی رہا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس کا جواب سمجھا دیا میں باہر نکلا اور کہا چوہدری صاحب ! آپ نے خواہ مخواہ تکلیف کی جس کو میں نے کہنا تھا کہہ دیا ہے میرا مطلب تھا خدا تعالیٰ سے میں نے کہنا تھا سو وہ میں نے کہہ دیا ہے۔خیر وہ یہ جواب سن کر چلے گئے میں تو اپنے کام میں مشغول رہتا تھا۔مجھے یاد ہی نہ رہا، چند دن کے بعد مجھے کسی دوست نے بتایا کہ فلاں صاحب چنیوٹ میں مجھے ملے تھے اور کہہ رہے تھے کہ میں نے میاں صاحب کا شکریہ ادا کرنے جانا ہے میرے حق میں فیصلہ ہو گیا ہے۔چنانچہ وہ میرے پاس آئے۔میں نے اُن کو بڑا سمجھایا کہ میں نے خدا تعالیٰ سے دعا کی تھی۔کسی کے پاس سفارش نہیں کی تھی اور یہی میں نے پہلے بھی آپ سے کہا تھا کہ میں خدا سے دعا کروں گا کیونکہ وہ بڑی طاقتوں والا ہے مگر آپ یہ بات سمجھتے نہیں۔وہ چلے گئے مگر مجھے یقین ہے کہ وہ میری بات کو جھوٹا سمجھے ہوں گے اور کہتے ہوں گے اُنہوں نے سفارش تو ضرور کی ہے مگر یہ بتانا نہیں چاہتے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اسلام کے ذریعہ تم نے خدائے رحمان کو پہچانا ہے تو کیا پھر اس کے بعد بھی تم کسی اور پر توکل کرو گے؟ کیا اس کے علاوہ کسی اور ہستی کی خشیت تمہارے دل میں پیدا ہو گی ؟ نہیں ایسا ہر گز نہیں ہو گا۔خواہ ہمارے او پر بظاہر کمزوری کا دور آئے اور مخالفت کی آندھیاں چلیں اس صورت میں بھی ہم نے اس بات سے نہیں ڈرنا کہ شیطان جیتے گا اور خدا تعالیٰ کے وعدے پورے نہیں ہوں گے۔خدا تعالیٰ کے وعدے ضرور پورے ہوں گے خدا تعالیٰ نے ہمیں ہلاک کر دینے کے لئے نہیں پیدا کیا۔خدا تعالیٰ نے ہمیں زندہ رہنے اور زندہ کرنے کے لئے پیدا کیا ہے۔