خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 418
خطبات ناصر جلد چہارم ۴۱۸ خطبه جمعه ۱۸ ستمبر ۱۹۷۲ء ہے تو یہ علامت ہوتی ہے شیطان کی دوستی کی۔ہمیں ہر حال میں اس تعلیم پر عمل پیرا رہنا چاہیے جس کے متعلق قرآن کریم نے بار بار زور دیا ہے۔چنانچہ فرمایا:۔وَعَلَى اللهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكَّلُونَ - (ابراهيم : ١٣) بھروسہ کرنے والوں کو تو اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیے۔پھر فرمایا: - وَعَلَى اللهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ (المجادلة: ١١) اور چاہیے کہ مومن صرف اللہ پر توکل کریں۔غرض مومن بندوں کو سوائے اللہ تعالیٰ کی ذات کے کسی اور پر توکل نہیں کرنا چاہیے غیر اللہ پر نہیں کیونکہ یہ صرف خدائے رحمان ہی ہے جس پر توکل کیا جا سکتا ہے کیونکہ وہ تمام صفاتِ حسنہ کا مالک ہے۔اُس نے اپنی صفاتِ حسنہ سے متصف ہونے اور ان کا مظہر بننے کی طاقت انسان کے اندر ودیعت کر رکھی ہے۔یہ اب انسان کا کام ہے کہ وہ خداداد طاقتوں اور صلاحیتوں کو زیادہ سے زیادہ بروئے کار لائے تا کہ وہ صفات الہیہ کا مظہر بن سکے۔اس کے اندر الہی صفات کا رنگ جلوہ گر ہو۔قرآن کریم نے اس مسئلہ پر بڑی وضاحت سے روشنی ڈالی ہے۔مختصر یہ کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی صفات کا مظہر بنے گاوہ نیکی کی توفیق پائے گا۔جو شخص نیک بنے کی کوشش کرتا ہے اللہ تعالی اس کی کمزوری کی پردہ پوشی بھی کرتا ہے اس کے گناہ معاف بھی کر دیتا ہے۔وہ خود اپنے فضل سے اس کے لئے نیکی کے سامان بھی پیدا کر دیتا ہے۔وہ اس کی عقل میں ترقی بھی عطا کرتا ہے۔مال و دولت میں فراخی بھی بخشتا ہے اور جب مال و دولت جمع ہو جائے تو پھر اسے خدا کی راہ میں خرچ کرنے کی توفیق بھی عطا فرماتا ہے وہ الہی صفات کی معرفت حاصل کرنے کے سامان بھی پیدا کرتا ہے۔وہ انسان کو نور عطا کرتا ہے اور نور کے اتمام کے سامان پیدا کرتا ہے۔اسی لئے فرما یالاتم نعمتی میں تم پر اپنی نعمتوں کو پورا کروں گا۔جو شخص خدا تعالیٰ سے تعلق رکھتا ہے وہ ایک جگہ کھڑا تو نہیں رہتا۔اس کا ہر روز پہلے روز سے زیادہ شاندار اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو زیادہ حاصل کرنے والا اور اس کے پیار کو زیادہ پانے والا