خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 412
خطبات ناصر جلد چہارم ۴۱۲ خطبه جمعه ۱۸ ستمبر ۱۹۷۲ء میں خرچ نہ کرو کیونکہ خدا کی یہ مخلوق اور یہ عالمین اور تیری طاقتیں تیرا ساتھ چھوڑ دیں گی تو پھر کیا کرو گے؟ آج دولت ملی ہے کل نہیں ملے گی۔مگر خدا تعالیٰ فرماتا ہے جس طرح میں نے آج دولت دی ہے کل بھی دوں گا۔مگر شرط یہ ہے کہ تم نے شیطانی خوف دل میں نہیں رکھنا بلکہ صرف مجھ سے ڈرنا ہے اور صرف میری خشیت کو اپنے دل پر وارد کرنا ہے۔خشیت کے معنی دراصل ایسے خوف کے ہوتے ہیں کہ جس ہستی سے خوف کھایا جائے اس کی عظمت اور جبروت کا دل پر اثر ہو۔چنا نچہ یہ اللہ تعالیٰ ہی کی عظمت اور جلال کی دہشت ، اس کی عظیم قدرتوں کا احساس اور اس کے حاکم کل ہونے کا یقین ہے جو انسان کو خشیت اللہ پر مجبور کر دیتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا اگر تم اپنے دل میں شیطانی وساوس پیدا نہیں ہونے دو گے، میری عطا کردہ دولت اور اقتدار یا میں نے جو دوسری چیزیں ( مثلاً ) صلاحیتوں کے رنگ میں یا عقل کے رنگ میں یا اخلاق کے رنگ میں عطا ہیں اُن کو میرے قرب کا ذریعہ بناؤ گے تو میں تم پر اور زیادہ انعام کروں گا اب مثلاً جہاں تک اخلاق حسنہ کا تعلق ہے یہ بھی اللہ تعالیٰ کے ودیعت کردہ ہیں۔ورنہ انسان کی کیا طاقت تھی کہ وہ خدا کے فضل کے بغیر اپنے اندر اچھے اخلاق پیدا کر سکتا۔آپ دیکھ لیں وہ قو میں جنہوں نے اسلام کی طرف توجہ نہیں دی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کیا ہے اُن کے ظاہری طور پر اخلاق اچھے ہوں تو ہوں ورنہ حقیقتا وہ لوگ با اخلاق نہیں ہوتے۔مثلاً جب انگریز یہاں کے حاکم ہوا کرتے تھے تو وہ بظاہر بڑے دیانتدار بنتے تھے اور وہ اس بات پر بڑا فخر کیا کرتے تھے کہ دیکھو مسلمان اور ہندو کے آپس میں جھگڑے ہوتے ہیں یہ خود اپنے فیصلے نہیں کر سکتے۔ہم ان کے درمیان انصاف اور دیانت داری کے ساتھ فیصلے کرتے ہیں۔حالانکہ یہ محض ایک دکھا وا تھا یہ دیانت داری ظاہری دیانت داری تھی۔حقیقی دیانت داری نہیں تھی۔کیونکہ انگریزوں کی تاریخ ہمیں بلا استثناء یہ بتاتی ہے کہ جب بھی انصاف اور ان کے ذاتی یا قومی مفاد کا ٹکراؤ ہوا، اُنہوں نے انصاف کو چھوڑ دیا اور ذاتی اور قومی مفاد کو ترجیح دی۔چنانچہ وہ برصغیر میں ہمیں لوٹ بھی رہے تھے اور ہم Whiteman's Burden ( وائٹ مینز برڈن ) بھی تھے یعنی ہم بے رنگ قوموں کا بوجھ بھی تھے۔مجھے ایک لطیفہ یاد آ گیا۔جب میں آکسفورڈ