خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 413 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 413

خطبات ناصر جلد چہارم ۴۱۳ خطبه جمعه ۸ ستمبر ۱۹۷۲ء میں پڑھا کرتا تھا تو ایک دفعہ میرے چند انگریز دوست میرے پاس آکر کہنے لگے کہ چلوسیر کو چلیں۔اتوار کا دن تھا۔ہم ایک باغ میں چلے گئے۔ان میں سے ایک کے پاس کیمرہ تھا۔میرے دل میں خیال پیدا ہوا کہ میں ان سے سبق آموز مذاق کروں۔چنانچہ میں نے کہا میں ایک پوز ( شکل ) بنا تا ہوں تم اس کی تصویر لو۔ان کو یہ بات سمجھ نہ آئی کہ اس سے میرا کیا منشاء ہے۔خیر وہ کہنے لگے ہاں ٹھیک ہے میں نے ان میں سے ایک کو کہا کہ وہ میری پیٹھ پر سوار ہو جائے اور میں کچھ نوٹ اپنی جیب میں رکھتا ہوں۔شکل یہ بناؤ کہ تم مجھے پر سوار بھی ہو اور میری جیب سے نوٹ بھی نکالنے لگے ہو۔ہم اس تصویر کے نیچے لکھیں گے "Whiteman's Burden" یعنی تم ہماری پیٹھ پر سوار بھی ہو اور ہمیں لوٹ بھی رہے ہو۔پھر بھی دُنیا میں یہ ڈھنڈورا پیٹتے ہو کہ ہم تمہارے لئے ایک بوجھ ہیں۔غرض حقیقی اخلاق سوائے اللہ تعالیٰ کی منشاء اور ہدایت اور شریعت کے پیدا ہو ہی نہیں سکتے۔کیونکہ حقیقی خلق جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے وضاحت سے بیان فرمایا ہے اس بات کا نام ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو قو تیں عطا فرمائی ہیں اُن کا صحیح مصرف ہو۔یہ مصرف اللہ تعالیٰ نے اسلام کے ذریعہ سکھایا ہے۔اس لئے جن لوگوں کو صحیح مصرف کا علم ہی نہیں وہ اپنے اندر حقیقی اخلاق پیدا ہی نہیں کر سکتے یہ ناممکن ہے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو لوگ شیطان کے دوست ہیں شیطان انہیں خوف دلاتا رہتا ہے۔مثلاً وہ خوف دلاتا ہے کہ تمہاری دولت نہیں رہے گی۔وہ خوف دلاتا ہے کہ تمہارا اقتدار نہیں رہے گا۔چنانچہ شیطان جس قسم کا بھی خوف دلاتا ہے اس کا مقصد اور مطلوب یہ ہوتا ہے کہ انسان نیکیوں سے محروم ہو جائے اس لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم شیطان کی آواز سنو گے تو نیک نہیں بنو گے۔تم ان عظیم نعمتوں کو حاصل نہیں کر سکو گے۔جن کو میں نے اس دُنیا میں تمہارے لئے پیدا کیا ہے۔لیکن اگر تم شیطان کے دوست نہیں بنو گے اس کے خوف دلانے سے اثر قبول نہیں کرو گے۔بلکہ اللہ تعالیٰ سے خوف کھاؤ گے اس کی عظمت اور جلال کا احساس اور اس کی صفاتِ حسنہ کی معرفت رکھو گے اور یہ یقین رکھو گے کہ یہ کائنات یہ عالمین ہمیشہ تمہارے خادم رہیں گے اور یہ کہ