خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 410 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 410

خطبات ناصر جلد چہارم ۴۱۰ خطبه جمعه ۱۸ ستمبر ۱۹۷۲ء در اصل دولت کے ضائع ہونے کا خوف ہے جو شیطان پیدا کرتا ہے اس شخص کے دل میں جس نے خدا کی پیداوار سے خدا داد طاقتوں کے ذریعہ مال حاصل کیا ہوتا ہے اور اسی طرح سیاستدان ، سیاسی اقتدار اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی طاقتوں اور سامانوں کے نتیجہ میں حاصل کرتا ہے۔مگر شیطان آکر اسے کہتا ہے پتہ نہیں پھر تمہیں اقتدار ملے یا نہ ملے، اگر تم نے بے انصافی نہ کی تو شاید تم سے اقتدار چھن جائے اس لئے اپنے اقتدار کو قائم رکھنے کے لئے خوب نا انصافیاں کرو۔چنانچہ شیطان اس کے دل و دماغ پر پردہ ڈال دیتا ہے۔اسے یہ حقیقت یاد نہیں رہتی کہ خدا رحمن اور رحیم ہے۔وہ خالق اور مالک یوم الدین ہے۔الْحُكْمُ لِلہ کی رو سے اس دنیا میں حکومت اسی کی ہے اور فیصلہ اسی کالا گو اور چالو ہے۔وہ پہلے کی طرح اب بھی موجود ہے اور اس کی طاقتیں اس دنیا میں کارفرما ہیں۔اس لئے کسی کے دل میں یہ شیطانی وسوسہ کہ دولت چلی گئی تو پھر پتہ نہیں ملے یا نہ ملے۔انصاف کیا تو کہیں اقتدار نہ جاتا رہے۔اسی قسم کے اور بھی بہت سے خوف ہیں جو شیطان انسان کے دل میں پیدا کرتا رہتا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ بقرہ کی آیت کے اس ٹکڑے میں جس کی میں نے ابتداء میں تلاوت کی تھی فرمایا ہے:۔فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَونی یعنی تم ان شیطانی وساوس یا شیطان صفت لوگوں سے مت ڈرو اور مجھ سے ڈرو۔اسی ضمن میں اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ایک دوسری جگہ فرماتا ہے۔إِنَّمَا ذَلِكُمُ الشَّيْطَنُ يُخَوِّفُ اَوْلِيَاءَةَ فَلَا تَخَافُوهُمْ وَ خَافُونِ اِنْ كُنْتُم مُّؤْمِنِينَ۔(ال عمران : ۱۷۶) یعنی شیطان اپنے دوستوں کو ڈراتا ہے۔جو لوگ شیطان کے دوست بن جاتے ہیں اور خدا کے دوست نہیں رہتے ان کے دل میں شیطان خوف پیدا کرتا ہے کہتا ہے دیکھو ! دولت چلی گئی تو پھر پتہ نہیں تمہیں ملے یا نہ ملے اور وہ بیوقوف یہ نہیں سمجھتا کہ پہلے جو دولت آئی تھی وہ شیطان نے تو نہیں دی تھی بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس دولت کو پیدا کیا اور ان طاقتوں کو بھی پیدا کیا جن کی بدولت اسے وہ دولت ملی۔اس کا اپنا تو کچھ نہیں۔اسی طرح جو شخص صاحب اقتدار بن جاتا ہے سیاسی میدان میں کامیابی حاصل کر لیتا ہے تو