خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 409
خطبات ناصر جلد چہارم ۴۰۹ خطبه جمعه ۱۸ ستمبر ۱۹۷۲ء کی بدولت وہ دولت جمع کر لیتا ہے تو پھر اس کے پاس شیطان آجاتا ہے اور اسے کہتا ہے کہ تو نے جو دولت کمائی ہے یہ تو محض تیری عقل اور سمجھ کا نتیجہ ہے، اسے اللہ کی راہ میں خرچ کر کے ضائع نہ کرنا۔گویا شیطان اسے بخل سے کام لینے کی ترغیب دیتا ہے۔ایسے موقع پر اگر وہ مومن بندہ ہے اور سمجھ دار ہے تو وہ شیطان کو دھتکار دے گا کیونکہ خدا کی یہ آواز اس کے کان میں پڑتی ہے کہ یہ اللہ کا مال ہے۔اللہ کی دی ہوئی طاقتوں سے میں نے کمایا ہے۔یہ مال حلال اس کی ہدایت کے مطابق خرچ ہوگا اور اس میں کوئی کمی بھی نہیں آئے گی کیونکہ یہ عالمین بھی اسی طرح موجود ہے۔انسانی قوتیں اور طاقتیں بھی اسی طرح موجود ہیں جس طرح پہلے تھیں اور اللہ تعالیٰ بھی موجود ہے۔اس کی رحمانیت کے جلووں میں کوئی فرق نہیں پڑا انسانی کوششیں نا کام ہوسکتی ہیں مگر خدائے رحمان کے جلوؤں میں کوئی فرق نہیں آسکتا۔چنانچہ خدائے رحمان اپنے بندہ سے کہتا ہے کہ اگر تم تمہیں ہر میرے بن جاؤ تو میں تمہیں نہیں چھوڑوں گا۔میں تمہیں نا کام نہیں ہونے دوں گا۔میں تم دکھ سے بچاؤں گا اور ہر نعمت عطا کروں گا مگر شرط یہ ہے کہ تم میرے بندے بن جاؤ اور میری ہدایت پر کار بند ہو جاؤ۔لیکن شیطان بھی تاک میں ہوتا ہے وہ اس کے کان میں ڈالتا ہے کہ تم نے ایک دفعہ دولت کمالی۔تمہارا داؤ لگ گیا ممکن ہے یہ دولت پھر تمہارے ہاتھ میں نہ آئے اس لئے تم اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرو۔اسی طرح مثلاً ایک سیاست دان ہے جسے اللہ تعالیٰ نے سیاسی شعور عطا فرمایا ہے۔اس کے اندر قیادت کا خدا داد جو ہر ہے جس کی بدولت وہ سیاسی میدان میں کامیاب ہو جاتا ہے۔اس کی اس کامیابی کا انحصار اس عالمین کے کچھ حصوں پر ہے مثلاً وہ کاغذ اور سیاہی کو، لاؤڈ سپیکر کو اور انسانوں پر اثر ڈال کر ان کے اجتماعوں کو استعمال کرتا ہے اور اپنے مقاصد میں کامیاب ہو جاتا ہے۔مگر جس وقت وہ کامیاب ہو جاتا ہے اور ملک کے کسی ایک حصے کا حاکم بن جاتا ہے اس چیز کو استعمال کر کے جو اللہ تعالیٰ نے پیدا کی اور ان قوتوں اور صلاحیتوں کے ذریعہ جو اللہ تعالیٰ نے اس کو بطور انعام کے عطا فرمائی تھیں تو پھر شیطان کہتا ہے کہ اب تمہیں اقتدارمل گیا ہے اس لئے اگر تمہیں اقتدار قائم رکھنے کے لئے بے انصافی کرنی پڑے تو کرو۔غرض دولت ہو یا سیاست ہو ہر دوصورتوں میں شیطان انسان کے دل میں خوف پیدا کر دیتا ہے۔بخل