خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 408
خطبات ناصر جلد چہارم ۴۰۸ خطبہ جمعہ ۱۸ ستمبر ۱۹۷۲ء دی گئی ہے کہ وہ نہ صرف دوسرے انسان کو علم دیتا ہے اور سکھاتا ہے بلکہ کتوں کو بھی سکھا سکتا ہے۔کتا اس کے کہنے کے مطابق کام کرتا ہے مثلاً ایک سدھایا ہوا کتا جسے انگریزی میں گن ڈاگ کہتے ہیں۔وہ شکاری کے ساتھ جاتا ہے تو شکار پر دانت نہیں مارتا بلکہ اسے اپنے نرم ہونٹوں سے پکڑ کر اپنے مالک کے پاس لے آتا ہے۔ظاہر ہے انسان اُسے یہ علم سکھاتا ہے۔یعنی اللہ تعالیٰ نے اس کی فطرت میں یہ رکھا ہے کہ وہ انسان سے اثر قبول کرے، اس سے علم سیکھے اور اس کے کہنے کے مطابق کام کرے۔اسی طرح انسان بے جان مادی اشیاء سے بھی خدمت لیتا ہے۔مثلاً انسان نے ہیرے سے اپنی خدمت لی۔عورت نے اسے اپنی زینت بنالیا۔مرد نے اسے پٹرول کے کنوئیں کھود نے کے لئے استعمال کیا۔بور کر نیوالی مشینوں کے آگے ہیرے لگے ہوتے ہیں۔اس لحاظ سے ان کے سرے ڈائمنڈ ہیڈز کہلاتے ہیں۔ورنہ یہ لوہا تو پتھر نہیں کاٹ سکتا۔بہر حال عورت نے اس سے اپنے رنگ میں خدمت لی اور مرد نے اپنے رنگ میں۔اسی طرح ہزاروں خدمتیں ہیں جو انسان ہیرے اور دوسری مادی اشیاء سے لیتا ہے۔اب مادی اشیاء سے ہزاروں خدمتیں لینے کی قوت اور طاقت انسان کو اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائی ہے یعنی ایک طرف اس عالمین کو پیدا کیا جس سے اس دنیا میں انسان کی ہر ضرورت پوری ہوتی ہے۔(البتہ وہ ضرورت پوری نہیں ہوتی جو انسان خود اپنی حماقت سے ضرورت سمجھ لیتا ہے ) اس سے وہ ضرورت مراد ہے جو اللہ تعالیٰ نے پیدا کی یعنی کسی چیز کی احتیاج کے پورا ہونے کے سامان پیدا کئے تو دوسری طرف انسان کو قوت و طاقت اور عقل و تمیز بھی عطا فرمائی تا کہ وہ اس دنیا کی چیزوں سے کام لے۔پھر انسان جب مادی اشیاء سے کام لیتا ہے تو بسا اوقات وہ شیطان کے دھوکے میں آجاتا ہے مثلاً ایک شخص ہے جسے تجارت کا بڑا ڈھنگ آتا ہے اللہ تعالیٰ نے اس کی فطرت میں یہ رکھا ہے کہ وہ جس چیز کو ہاتھ میں لیتا ہے اسے سونا بنا دیتا ہے۔چنانچہ وہ تجارت کرتا ہے اور اس کے ذریعہ وہ بڑا نفع کماتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اسے عقل وفراست اور تاجرانہ ذہنیت عطا فرمائی ہے جس