خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 399 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 399

خطبات ناصر جلد چہارم ۳۹۹ خطبہ جمعہ یکم ستمبر ۱۹۷۲ء چنانچہ ہم نے حیات مسیح کے عقیدہ کے خلاف عقلی اور نقلی اور تاریخی دلائل کے ذریعہ لوگوں کو لاجواب کر دیا۔اب اسی نوے فیصد مسلمان یہ کہتے ہیں کہ وہ لوگ غلطی کرتے تھے جو حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کو آسمان پر زندہ مانتے تھے۔بمشکل دس بیس فیصد لوگ ایسے رہ گئے ہیں جو حیات مسیح کے قائل ہیں۔ان میں سے بھی ایک حصہ ایسا ہے جو مانتا تو ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں لیکن وہ اس بات کا اعلان کرنے کے لئے تیار نہیں۔تاہم ایک وقت آئے گا کہ وہ لوگ بھی وفات مسیح کا اقرار کر لیں گے۔دوسری طرف عیسائی کہتے ہیں کہ مریم کا بیٹا ( علیہ السلام ) آسمان پر زندہ ہے اور خدا کے دائیں ہاتھ بیٹھا خدائی کر رہا ہے تین مل کر ایک بن گئے ہیں یعنی تثلیث عیسائیوں کا بنیادی عقیدہ ہے حالانکہ بائیبل نے حضرت مسیح کو Son of Man ( سن آف مین ) یعنی ابن آدم کہا ہے۔یہ بڑی موٹی بات ہے پھر بھی آدمی حیران ہوتا ہے کہ اس کے باوجود عیسائی حضرت مسیح کو خدا مانتے ہیں آخر وہ ان کی خدائی کو کس طرح اور کس دلیل کی بناء پر مانتے ہیں۔عیسائیوں نے بائیبل میں دجل کر کے جو حصہ ملایا ہے وہ علیحدہ ہے اس کے باوجود بائیبل نے کئی جگہ حضرت مسیح کو ابنِ آدم کہہ کر پکارا ہے۔میں نے پہلے بھی بتایا تھا کہ ڈنمارک میں ایک عیسائی پادری نے بدتمیزی کی تھی اس نے اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بات کی تھی۔اس کا میں نے جو جواب دیا تھا وہ ان کے لئے پریشان کن تھا۔میں نے اپنے جواب میں جان بوجھ کر حضرت مسیح کے لئے ابن آدم کا لفظ استعمال کیا تھا وہ چونکہ پڑھے لکھے اور ہوشیار لوگ ہیں اس لئے وہ فوراً سمجھ گیا اور بڑا تلملا یا کہ یہ کیا ہو گیا ہے وہ کہنے لگا کہ ابن آدم کے معنے وہ نہیں جو آپ سمجھتے ہیں میں نے اس کو جواب دیا ( دوست یا درکھیں کہ ایسے وقت میں اپنی جگہ کو بالکل نہیں چھوڑ نا چاہیے ) کہ ابن آدم کے معنے سوائے ابن آدم کے کوئی اور ہو ہی نہیں سکتے۔اس واسطے تمہارا یہ کہنا غلط ہے کہ میں ابن آدم کے جو معنے سمجھتا ہوں وہ درست نہیں سن آف مین یعنی ابن آدم کے معنے ابن آدم ہی کے ہوتے ہیں اس پر وہ کہنے لگا کہ یہ تو ہماری مذہبی اصطلاح ہے۔میں نے کہا میں جانتا ہوں۔یہ تمہاری مذہبی