خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 398
خطبات ناصر جلد چہارم ۳۹۸ خطبہ جمعہ یکم ستمبر ۱۹۷۲ء ساتھ مذہبی جنگ ہو رہی تھی جو اپنے آپ کو عیسائیت کی طرف منسوب کر رہے تھے۔یا اپنے آپ کو وید کی طرف منسوب کر رہے تھے یا بعض دوسرے مذاہب کی طرف منسوب ہوتے تھے مگر جس طرح پہلے کسرئی اور قیصر کے ساتھ جنگ ہوئی یعنی پہلے ایک طاقتور مخالف حکومت کے بعد دوسری طاقتور مخالف طاقت کے ساتھ جنگ ہوئی اس طرح جماعت احمدیہ کے مقابلے میں اس چوتھے دور کا پہلا حصہ ہے ادیان باطلہ کی مخالفت اور اس کا مقابلہ ہمیں اس میں بڑا زبردست جہاد اور سخت مجاہدہ کرنا پڑا اور کرنا پڑ رہا ہے اس جنگ کو ہم نے اللہ تعالیٰ کے فضل سے جہاں تک دلائل کا تعلق ہے جیت لیا ہے۔ہماری کوشش کامیاب ہو گئی ہے۔دلائل کے مقابلے میں اب لوگ ہمارے سامنے بالکل نہیں ٹھہرتے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی کتب میں ایک جگہ ایک بڑا ہی عجیب فقرہ لکھا ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ ایک وہ وقت تھا کہ پادری ہر نکڑ پر اور ہر چوراہے پر کھڑے ہوکر مسلمانوں پر یہ آوازے کسا کرتے تھے کہ کہاں ہیں وہ اسلام کے معجزات جو محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) نے دکھائے تھے۔وہ ہمارے سامنے پیش کرو۔مگر اب یہ حال ہے کہ وہی پادری میرے ساتھ جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا خادم ہوں مقابلہ کرنے سے گھبراتے ہیں۔غرض دلائل کے میدان میں اہلِ مذہب کی پسپائی کا دور آپ علیہ السلام کی زندگی میں شروع ہو گیا تھا۔اب مثلاً وفات مسیح کا مسئلہ ہے۔اندرونی طور پر مسلمان کہلانے والوں کے ساتھ ایک وقت میں یہ ایک بہت بڑا مسئلہ تھا۔اس مسئلہ پر بڑی سر پھٹول ہوا کرتی تھی۔بڑی لڑائیاں ہوا کرتی تھیں۔اسی بناء پر قتل کی کوششیں ہوئیں کہ ہم حضرت مسیح ( جو ایک عاجز انسان تھے ان ) کو آسمان پر زندہ کیوں نہیں مانتے ؟ اس مسئلہ پر لوگ ہمارے ساتھ مقابلہ کر رہے تھے۔وہ ہمیں کہتے تھے تمہاری عقلوں کو کیا ہو گیا ہے۔ایک طرف عیسائی تھے۔وہ ہمیں کہتے تھے کہ تم اُس مسیح کو خدا کیوں نہیں مانتے اور دوسری طرف مسلمان کہہ رہا تھا تم اسے آسمان پر زندہ کیوں نہیں مانتے۔حالانکہ حضرت مسیح علیہ السلام ایک عاجز انسان تھے جو ماں کے پیٹ کے اندھیروں میں نو مہینے رہنے کے بعد اس دُنیا میں پیدا ہوئے تھے وہ نہ تو خدا بن سکتے تھے اور نہ اس جسم کے ساتھ آسمان پر زندہ رہ سکتے تھے۔