خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 397
خطبات ناصر جلد چہارم ۳۹۷ خطبہ جمعہ یکم ستمبر ۱۹۷۲ء میں بڑا ماہر تھا۔علمائے ظاہر کے گروہ کا ایک بہت بڑا عالم تھا میں نے بھی اس کی بعض کتابیں پڑھی ہیں۔جہاں تک ظاہری علوم کا تعلق ہے وہ تو ایک عیسائی بھی پڑھ سکتا ہے۔مثلاً بخاری ہے۔حدیث کی دوسری کتابیں ہیں۔پھر تفاسیر کی کتابیں ہیں جنہیں مسلمان علماء نے لکھا ہے انہیں ہر کوئی پڑھ سکتا ہے اور یاد بھی رکھ سکتا ہے۔یہ بھی علم کی ایک قسم ہے اور ایسے شخص کو بھی عالم کہتے ہیں۔اس قسم کا وہ عالم تھا۔غالباً امریکہ میں عیسائیوں کی عالمی کانفرنس منعقد ہونے والی تھی۔اُنہوں نے ان کو بھی بلا یا مگر یہ کسی وجہ سے اس کا نفرنس میں شریک نہ ہو سکے۔البتہ انہوں نے اس کا نفرنس کے لئے ایک مضمون بھجوا دیا اس میں اُنہوں نے دُنیا کے عیسائیوں کو یہ بشارت دی کہ وہ وقت عنقریب آنے والا ہے کہ اگر ہندوستان میں (اس وقت پاکستان تو بنا نہیں تھا سارا ہندوستان اکٹھا تھا) کسی شخص کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ وہ اپنی زندگی میں کسی مسلمان کو دیکھ لے تو اس کی یہ خواہش پوری نہیں ہو سکے گی یعنی یہاں ایک بھی مسلمان نہیں رہے گا۔یہ اُن کا دعویٰ تھا۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مبعوث ہوئے۔دُنیا کے حالات بدلے ایک کے بعد دوسرا۔دوسرے کے بعد تیسرا دور شروع ہوا اور گزر گیا۔اس وقت ہم عملاً چوتھے دور میں داخل ہو چکے ہیں۔پہلے تو ہندوستان اکٹھا ہو کر اسلام کے غلبہ کی مہم میں رکاوٹ پیدا کرنا چاہتا تھا۔مگر پھر ساری دُنیا اکٹھی ہو گئی اور اُنہوں نے اسلام کو غالب کرنے کی اس الہی سکیم اور منصوبے کو ناکام بنانے کے لئے کروڑوں اربوں روپے خرچ کئے اور یہ وہ دور ہے جس میں سے ہم اب گزر رہے ہیں لیکن دور دور کے مختلف مراحل میں فرق ہوتا ہے میں نے بڑا غور کیا ہے۔میرے نزدیک ابھی اس دور کی ابتداء ہے لیکن مجھے نظر آ رہا ہے کہ ہم عنقریب اس چوتھے دور کے نہایت نازک مرحلے میں داخل ہونے والے ہیں۔میں پہلے بتا چکا ہوں کہ جس طرح اسلام کی نشاۃ اولیٰ کے چوتھے دور میں پہلے کسری اور پھر قیصر کے خلاف مسلمانوں کو ایک زبردست جہاد اور سخت مجاہدہ کرنا پڑا تھا اسی طرح اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے اس چوتھے دور میں بھی اسلام کو غالب کرنے کی جو جد و جہد تھی وہ پہلے ادیان باطلہ کے خلاف تھی۔جماعت احمدیہ کی کش مکش دیگر مذاہب کے ساتھ تھی یعنی ہماری ان لوگوں کے