خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 394 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 394

خطبات ناصر جلد چہارم ۳۹۴ خطبہ جمعہ یکم ستمبر ۱۹۷۲ء عالمگیر غلبوں کی پیشگوئی کی گئی تھی۔اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو یہ بشارت دی تھی اور اُن سے یہ وعدہ فرمایا تھا کہ جس طرح اسلام پہلے زمانہ میں غالب آئے گا اسی طرح آخری زمانہ میں بھی سب ادیان پر غالب آئے گا۔پس اسلام کے پہلے چار ادوار میں سے کسی دور میں بھی کیا کوئی یہ کہہ سکتا تھا کہ ہمارا جیتنا ظاہری سامانوں کے لحاظ سے ممکن ہے؟ نہیں! ایسا ہر گز نہیں وہ لوگ تو پاگل ہوں گے جو یہ سمجھتے تھے کہ وہ ظاہری سامانوں کے لحاظ سے جیت جائیں گے۔دور جانے کی ضرورت نہیں ۵۳ ء کے فسادات کو لے لیجئے۔اُس وقت جب کہ مخالفت زوروں پر تھی اور ہر طرف آگ لگی ہوئی تھی۔ہم آپس میں رتن باغ میں یہ باتیں کیا کرتے تھے کہ اگر کوئی احمدی ہمیں آکر یہ کہے کہ ظاہری حالات ایسے ہیں کہ ہم اس آگ سے بچ جائیں گے۔تو ہم سمجھیں گے کہ اس کا دماغ خراب ہو گیا ہے کیونکہ ظاہری حالات میں ہمارا بچنا ممکن نہیں تھا۔ویسے تو ہم میں سے ہر ایک کو خدا تعالیٰ کے وعدوں کے پورا ہونے کا کامل یقین تھا۔اس لئے ہم میں سے ہر ایک یہ کہتا تھا کہ ہم بچ جائیں گے۔ہمیں کوئی مار نہیں سکتا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے آگ سے ہمیں مت ڈراؤ۔آگ ہماری غلام بلکہ غلاموں کی غلام ہے۔یہ ہر احمدی سے اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے۔لیکن یہ نہیں کہ ہم ظاہری سامانوں کی بدولت بچ جائیں گے۔اگر کوئی احمدی آکر اس وقت یہ کہتا کہ ظاہری سامان ایسے ہیں کہ ہم بچ جائیں گے تو ہم سمجھیں گے اُس کے دماغ پر اتنا بوجھ پڑا ہے کہ اس کا دماغ چل گیا ہے۔تاہم یہ حقیقت ہے کہ ہم ان فسادات میں بچ گئے کیونکہ خدا تو سچے وعدوں والا ہے وہ کہتا ہے إِنَّ وَعْدَ الله حق اس کا ترجمہ کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے تو سچے وعدوں والا منکر کہاں کدھر ہیں یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَرَانِي در اصل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی نظم و نثر کی اکثر تحریرات قرآنی آیات کی تفسیر اور ترجمہ ہوتا ہے۔