خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 395
خطبات ناصر جلد چہارم ۳۹۵ خطبہ جمعہ یکم ستمبر ۱۹۷۲ء پس یہ مختصر سا پس منظر ہے اسلام کی نشاۃ ثانیہ میں اسلام کے دوبارہ عالمگیر غلبہ کا۔اب ہم اس زمانہ میں داخل ہو گئے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت اس وقت ہوئی جب اسلام کا تنزل اپنی انتہا کو پہنچ چکا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کے ساتھ اسلام کے حالات اس پہلے دور کے (جسے ہم نشاۃ اولی کہتے ہیں اور جس کے آگے چار مختلف ادوار ہیں ) حالات سے ملتے جلتے تھے۔جس طرح اس وقت مسلمان چھپے پھرتے تھے اور ظاہر ہو کر سامنے نہیں آتے تھے اسی طرح اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے پہلے دور کی بھی یہی حالت تھی۔مسلمان اغیار کے سامنے چھپے پھرتے تھے۔میں نے پہلے بھی کئی بار بتایا ہے۔سیرالیون کے ایک سابق نائب وزیر اعظم نے بھی کہا تھا کہ احمدیوں کے آنے سے پہلے ہم اسلام کا نام لیتے ہوئے شرماتے تھے۔وہ گویا چھپ گئے تھے کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ اگر انہوں نے اسلام کا نام لیا تو وہ مارے جائیں گے اور یہ کہتے تھے کہ اسلام کا نام لے کر ہم شرم سے مر جائیں گے۔یہ بھی مرنے کا سوال تھا۔پھر انہوں نے کہا اب پچاس سال کے بعد ہم بڑے فخر سے اپنی گردنیں اُٹھا کر اسلام کے متعلق گفتگو کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہمارے مقابلے میں کوئی ٹھہر نہیں سکتا۔تاہم اس نے اعلان کیا کہ یہ اس اسلام کا نتیجہ ہے جو احمدیوں نے ہمیں سکھایا ہے حالانکہ وہ خود احمدی نہیں تھا اور اپنی تقریر کے دوران یہ بار بار کہتا تھا میں احمدی نہیں ہوں۔پھر ہمارے اوپر بھی ایسا دور آیا۔میں کئی دفعہ یہ کہا کرتا ہوں کہ خدا کی یہ شان ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک وقت میں اکیلے تھے۔آپ کے گھر والوں میں سے کوئی بھی آپ کا ساتھ دینے کو تیار نہیں تھا۔حتی کہ آپ کو روٹی دینے کے لئے تیار نہیں تھے۔باوجود اس کے کہ جائیداد میں آپ اُن کے ساتھ برابر کے شریک تھے۔پھر بھی بچی کچھی روٹی کھانے کو بھجوا دیتے تھے۔اُس وقت ایک آدمی احمدیت کو مٹا سکتا تھا۔مثلاً کوئی ایک آدمی جا کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو قتل کر دیتا تو کیا جو خدا تعالیٰ نے منصوبہ بنایا تھا عالمگیر غلبہ اسلام کا وہ ختم ہوجا تا ؟ لیکن خدا تعالیٰ کے منصوبے تو کبھی ختم نہیں ہوتے خدا تعالیٰ نے فرمایا یہ میرا بندہ ہے اس پر کوئی ہاتھ نہیں اُٹھا سکتا۔