خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 389
خطبات ناصر جلد چہارم ۳۸۹ خطبہ جمعہ یکم ستمبر ۱۹۷۲ء کی بعثت کے ساتھ یہ امر ثابت ہو گیا تھا کہ عیسائیت ختم ہو چکی ہے۔تا ہم پادری تو عیسائیت کا نام لیتے تھے۔وہ اسلام کے خلاف اور مذہب کے نام پر جنگ لڑنے کے لئے عیسائیوں کو بہت اُکساتے پھرتے تھے۔اُن کا جو بادشاہ تھا، وہ سمجھتا تھا کہ اس کی دُنیوی حکومت کے لئے اسلام کی شکل میں ایک چھوٹا سا چیلنج ایک مد مقابل پیدا ہو گیا ہے جس کو ابھی سے ختم کر دینا چاہیے ورنہ وہ ہمیں تکلیف دے گا۔چنانچہ یہ چوتھا دور اور ایک لحاظ سے غلبہ اسلام کے آخری دور کا آغاز تھا کسری اور قیصر کے خلاف اسلام کو اپنی حفاظت اور بقا اور اس کو ہر لحاظ سے مستحکم کرنے کے لئے مجبور کیا گیا کہ وہ تلوار کے مقابلے میں تلوار نکالے۔اللہ تعالیٰ نے وہاں پھر اسلام کے حق میں اور غلبہ اسلام کے لئے سامان پیدا فرمائے۔تاہم مسلمانوں کو اگر فَاصْبِرُ اِنَّ وَعْدَ اللهِ حَقٌّی کی رو سے یہ تسلی نہ ہوتی کہ خدا تعالیٰ کے وعدے ضرور پورے ہوں گے تو مسلمان اُن کا مقابلہ کر ہی نہیں سکتے تھے۔قرآن کریم میں متعدد جگہ إِنَّ وَعْدَ اللهِ حَق “ کو دہرایا گیا ہے جن میں سے میں نے ایک خاص حکمت کے ماتحت اور اپنے مضمون کے لحاظ سے دو آیتوں کا انتخاب کیا ہے۔بہر حال پہلے دور میں بھی یعنی جس وقت مکی زندگی میں گنتی کے چند آدمی تھے۔اگر انہیں یہ یقین نہ ہوتا کہ إِنَّ وَعْدَ اللهِ حَقٌّ کی رو سے اللہ تعالیٰ کے وعدے پورے ہوں گے اگر انہیں یہ بشارت نہ دی گئی ہوتی کہ اسلام ساری دُنیا پر اور دُنیا کے سارے ادیان باطلہ پر غالب آئے گا تو وہ مظلومیت کی زندگی کو بشاشت کے ساتھ برداشت کر ہی نہ سکتے۔پھر دوسرے دور میں مسلمانوں کی تعداد تو کچھ زیادہ ہو گئی۔پہلے گنتی کے افراد تھے مسلمانوں کی فرداً فردا گنتی ہو رہی تھی۔مگر اس کی بجائے اب ہیں ہیں کی گنتی ہونے لگی۔مجھے اس وقت صحیح اعداد و شمار تو یاد نہیں لیکن جب ہجرت کے معا بعد مدینہ میں مسجد نبوی بنائی گئی تھی تو اُس وقت نمازیوں کی تعداد دو اڑھائی سو ہوا کرتی تھی اس سے زیادہ نہیں تھی حالانکہ اس وقت تک مدینہ کے لوگ بھی مسلمانوں میں شامل ہو گئے تھے۔بہر حال بیبیوں مسلمان کہنا چاہیے جو دوسرے دور میں ظلم و تشدد کے باوجود اسلام کی بقا کے