خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 388
خطبات ناصر جلد چہارم ۳۸۸ خطبہ جمعہ یکم ستمبر ۱۹۷۲ء عربوں کا رہن سہن کا تعلق تھا، ایرانیوں اور رومیوں کی بات واقعی ٹھیک تھی۔اسلام سے پہلے عرب لوگ بڑے وحشی تھے۔اُن کی وحشت اور بربریت کا یہ حال تھا کہ وہ اپنی بیٹیوں کو زمین میں زندہ گاڑ دیا کرتے تھے۔تاہم اُن میں بعض خوبیاں بھی تھیں وہ بڑے مہمان نواز تھے۔بڑے اچھے دوست بھی تھے۔ہر چیز میں خوبیاں بھی ہیں فائدے بھی ہیں اور محسن بھی پایا جاتا ہے۔ورنہ تو پھر اللہ تعالیٰ ایسی مخلوق کو پیدا ہی نہ کرتا جس میں کوئی فائدہ نہ ہوتا۔بہر حال جس وقت عرب میں اسلام کی حکومت قائم ہوگئی تو اس کے ساتھ اسلام کا چوتھا دور شروع ہوا۔ہر دور پہلے دور سے زیادہ نازک تھا۔مسلم عرب کی طاقت اسلام کے منکر ، کافر اور دشمن کسری اور قیصر کی مجموعی طاقت کا شاید ہزارواں حصہ بھی نہ تھی۔مسلمانوں کی طاقت کے مقابلے میں کسریٰ اور قیصر کی طاقت بہت زیادہ تھی۔مسلمان تعداد میں تھوڑے تھے۔مسلمانوں کے پاس مال و دولت نہیں تھا۔وہ ہتھیار نہیں خرید سکتے تھے۔وہ گھوڑے نہیں خرید سکتے۔اُن کے پاس اونٹیاں نہیں تھیں۔اُن کے پاس زرہیں اور خُود بہت کم تعداد میں تھے مسلمانوں کے مقابلے میں مخالفین عرب کے پاس بہت کچھ تھا۔کسری اور قیصر کے مقابلے میں عرب کوئی حیثیت ہی نہیں رکھتے تھے چنانچہ جس وقت عرب میں اسلام کی حکومت قائم ہو گئی تو اس وقت کسریٰ اور قیصر کی دو بڑی طاقتیں اسلام کے خلاف صف آراء ہوگئیں۔یہ دونوں اُس وقت کی معلوم دُنیا کی اسی طرح حاکم تھیں جس طرح آج کی معلوم دُنیا پر امریکہ، روس حاکم ہیں۔ان کی مرضی کے بغیر آزاد قو میں بھی کچھ نہیں کر سکتیں۔یہ ایک فراڈ ہے جو انسانیت کے ساتھ کھیلا جارہا ہے۔بہر حال یہ دونوں بہت بڑی طاقتیں تھیں۔عرب میں اس وقت ان کے مقابلے کی کوئی طاقت نہیں تھی چنانچہ پہلے کسری نے جنگ چھیڑ دی اور یہ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی تھی کہ قیصر نے سمجھا کہ یہ موقع ہے اب مسلمانوں کو مٹا دو۔کسری تو بد مذہب تھا۔اس نے اپنے دُنیوی اثر ورسوخ، مال و دولت اور اپنے عروج وغرور کی وجہ سے اسلام کو مٹانا چاہا اور قیصر نے عیسائیت کے نام پر اسلام کو مٹانا چاہا اس نے اپنی طرف سے عیسائیت کی حفاظت کے لئے اور اپنے ملک کی حفاظت کے لئے مسلمانوں کے ساتھ لڑائی چھیڑ دی۔ویسے یہ ایک حقیقت ہے کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم