خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 379 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 379

خطبات ناصر جلد چہارم خطبه جمعه ۲۵ اگست ۱۹۷۲ء فرما یا یہ بڑی عظمت والی شہادت ہے جو میں پیش کر رہا ہوں اور عظمت والی شہادت یہ پیش کی کہ انه لقران کریم (الواقعة: ۷۸) کہ قرآن کریم بڑی عظمت والی کتاب ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ فی کتب مکنون یہ ایک چھپی ہوئی کتاب ہے۔اس کے اندر ایسے رموز اور اسرار ہیں جو آنے والے زمانوں کی ضرورتوں کو پورا کرنے والے ہیں جو اس بات پر شاہد ہیں کہ مَا فَرَّطْنَا في الكتب مِنْ شَيْءٍ کہ اس میں بیان ہونے سے کوئی چیز باقی نہیں رہ گئی۔بعض بیوقوف لوگ یا بعض د نیوی علوم رکھنے والے لوگ یہ کہہ دیتے ہیں کہ چودہ سوسال پہلے جو کتاب نازل ہوئی تھی وہ ہماری ضرورتوں کو کیسے پورا کرے گی؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اس طرح پورا کرے گی کہ میں خود اُمت محمدیہ کے ایک گروہ کا معلم بنوں گا۔میں ان کو ہر زمانہ میں علم سکھا تا ہوں۔ان کی پاکیزگی کو دو بالا کرتا ہوں۔ان کو روشن کرتا ہوں۔ان کے اندر طہارت اور تزکیہ پیدا کرتا ہوں انہیں اس قابل بنا دیتا ہوں کہ قرآن کریم کے سیکھنے کی ان کے اندر اہلیت پیدا ہو جائے جس کی پہلی اور بڑی شرط طہارت ہے۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرما یا لَا يَمَسُّةَ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ۔پھر اس کے بعد فرمایا: - تَنْزِيلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعَلَمِينَ (الواقعة:۸۱) یہی ہونا چاہیے تھا کیونکہ قرآن کریم ایک صدی کے لئے یا ایک نسل کے لئے نازل نہیں ہوا بلکہ یہ تو رب العالمین کی طرف سے عالمین کی ہدایت کے لئے ہر زمانے اور ہر ملک کی ہدایت کے لئے نازل ہوا ہے۔غرض اللہ تعالیٰ نے قرآنی عظمت کے اظہار کے لئے یہ دعویٰ بھی کیا اور دلیل بھی بیان فرمائی اور فرمایا: - مَا فَتَطْنَا فِي الكتب مِنْ شَيْءٍ انسانی ضرورت کے لحاظ سے علم الہی میں جو چیز بھی ضروری تھی وہ اس میں بیان ہو گئی ہے۔فرمایا ہم نے کوئی کمی نہیں کی۔ہمارے علم میں جس چیز کی ضرورت تھی وہ اصولی اور بنیادی طور پر قرآن کریم میں بیان کر دی گئی ہے۔پس ہمارے اس زمانے میں وہ چاند آ گیا۔وہ قمر طلوع ہو گیا جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے روحانی آفتاب کا پر تو لئے ہوئے ہے۔اس طلوع قمر کے نتیجہ میں بھی جو نجوم کی ضرورت ہے وہ اپنی جگہ پر قائم ہے۔اگر چہ یہ سلسلہ ایک وقت میں کم ہو گیا تھا مگر اس وقت بھی جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے فیج اعوج یعنی اسلام کے تنزل کے زمانے میں لاکھوں کی تعداد