خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 369 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 369

خطبات ناصر جلد چہارم ۳۶۹ خطبه جمعه ۱۸ راگست ۱۹۷۲ء ہوتے ہوئے تلوار کی ضرورت ہی نہیں ہے میں چونکہ پہلے بھی اپنے کئی خطبات میں اس مضمون پر روشنی ڈال چکا ہوں اس لئے تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں۔تاہم میں بتانا یہ چاہتا ہوں کہ اس وقت ادیان باطلہ کے خلاف ہماری زبردست جنگ جاری ہے۔اس وقت دنیا کا جاہل بھی اور پڑھا لکھا طبقہ بھی دنیا کا مذہبی بھی اور خدا کو گالیاں دینے والا گروہ بھی اسلام پر حملہ آور ہے۔ہم نے نہ صرف اسلام کا دفاع کرنا ہے بلکہ دنیا کو اسلام کے حسن و احسان کا گرویدہ بنا کر اسے محسن انسانیت حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں لا ڈالنا ہے یہ کام بڑا ہی عظیم کام ہے جتنا یہ عظیم الشان کام ہے ہم پر اتنی ہی زیادہ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔اس لئے ہم یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ ہماری جو نوجوان نسل ہے وہ ہمارے سید ومولا حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی اسلامی فوج میں بھرتی ہونے کے قابل نہ ہو اور غیر تربیت یافتہ ہو۔چنانچہ اس تربیت کی خاطر ہم بہت سی تدابیر اختیار کرتے ہیں۔ایک تدبیر حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے یہ کی تھی کہ خدام الاحمدیہ کی تنظیم بنادی اور پھر اس تنظیم میں مزیدحسن پیدا کرنے کے لئے ان کا ایک اجتماع رکھ دیا جو سال بسال ہوتا چلا آ رہا ہے۔چھٹے یہ اجتماع منتظمین پر بھی بڑی بھاری ذمہ داری ڈالتا ہے۔اجتماع کے موقع پر اگر بعض غیر تربیت یافتہ نوجوان گپیں ہانکنے لگ جائیں تو انہیں دیکھ کر غصے نہیں ہونا چاہیے بلکہ پیار سے سمجھانا چاہیے۔وہ وہاں تربیت حاصل کرنے کے لئے آتے ہیں وہ حضرت سید سرور شاہ صاحب رضی اللہ عنہ کی طرح تو نہیں ہوتے ہم انہیں یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ اپنے بزرگوں کی نیکی اور تقویٰ کو اپنا ئیں مگر اُن کے بلند معیار پر ہر ایک کو پر کھا تو نہیں جاسکتا۔بہر حال خدام میں تربیت کی کمی ہوتی ہے اسی لئے تو ہم ان کو وہاں بلاتے ہیں۔اجتماع میں مثلاً تقریروں کے دوران میں بعض غیر تربیت یافتہ نوجوان اپنے خیمہ میں آپس میں باتیں کر رہے ہوتے ہیں۔منتظمین ان پر غصے ہوتے ہیں۔اس کا تو کوئی فائدہ ہی نہیں۔ایسی صورت میں منتظم کو چاہیے کہ وہ خود بھی ان کے پاس بیٹھ جائے۔انہیں آرام سے سمجھائے اور کہے آؤ چلیں