خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 368
خطبات ناصر جلد چہارم ۳۶۸ خطبه جمعه ۱۸ راگست ۱۹۷۲ء۔نے آدھی دنیا کی دولت سنبھالی ہوئی ہے اور دنیوی لحاظ سے ان کی بہت بڑی طاقت ہے اور اسلام دشمنی میں بھی یہ لوگ بہت نمایاں ہیں۔جس طرح آج جو شخص بھی مفسدانہ نعرہ لگا نا چاہتا ہے وہ مرزائیت کے خلاف نعرہ لگا دیتا ہے حالانکہ مرزائیت تو دنیا میں ہے ہی کہیں نہیں۔یہ تو احمدیت ہے۔لیکن بہر حال فساد برپا کرنے کی نیت سے مرزائیت کے خلاف نعرہ لگ جاتا ہے لیکن جو باہر کی دنیا ہے یعنی اسلام سے باہر کی دنیا وہ جب بھی شرارت کرنا چاہیں وہ اسلام کو ملوث کرنے اور اس کے خلاف باتیں کرنے لگ جاتے ہیں۔ایک عیسائی جو حضرت مسیح ناصری علیہ السلام سے کلی طور پر علیحدہ اور جدا ہو چکا ہے اس کے دل میں عیسائیت سے کوئی پیار نہیں رہا وہ بات بات میں کہے گا کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا ہے۔اسلام تلوار کے زور سے پھیلا ہے یا نہیں ، اس کے متعلق تمہیں بات کرنے کا حق تب پہنچتا جب تم حضرت مسیح علیہ السلام پر ایمان رکھتے۔کوئی ان سے پوچھے کہ عیسائیت پر سے ایمان تو تمہارے ہاتھ سے جاتا رہا اب اسلام کے خلاف یہ دلچسپی تمہارے اندر کہاں سے پیدا ہو گئی ہے کہ تم بات بات میں اسلام کے خلاف جھوٹ بولنے لگے ہو۔میں نے اس وقت تک یورپ کے دو دورے کئے ہیں۔مجھے وہاں یہ عجیب بات نظر آئی کہ عیسائیت غائب ہے اور اسلام دشمنی قائم ہے۔پہلی بار جب میں ۱۹۶۷ء میں وہاں دورے پر گیا تھا تو دو جگہ مجھ سے یہ سوال کیا گیا تھا کہ آپ ہمارے ملک میں اسلام کو کیسے پھیلائیں گے؟ میں نے اس سوال کا یہ جواب دیا تھا کہ تمہارے دل جیتیں گے اور اسلام پھیلا ئیں گے ایک پریس کا نفرنس میں ۲۰، ۲۵ صحافی یہ جواب سن کر بلا مبالغہ سُن ہو کر رہ گئے تھے۔ایک منٹ تک تو ان کے مونہہ سے کوئی بات نہیں نکل سکی تھی کیونکہ انہوں نے ساری عمر یہ سن رکھا تھا کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا ہے اور ان کا سوال دراصل اسلام پر یہ طعن تھا کہ اسلام تو تلوار کے زور سے پھیلتا ہے۔تلوار ہم نے اسلام کے ہاتھ سے چھین لی ہے اب تم ہمارے ملکوں میں اسلام پھیلانے کے لئے کیا جھک مارتے پھرتے ہو۔لیکن جس وقت انہوں نے میرا یہ جواب سنا تو مبہوت ہو کر رہ گئے۔غرض اسلام کو پھیلانے کے لئے تلوار کی ہمیں ضرورت ہی نہیں۔ہم لوگوں کے دل جیتیں گے اور اسلام پھیلائیں گے۔کیونکہ اسلام کی تعلیم کے اندر اتنا حسن و احسان موجود ہے کہ اس کے