خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 351 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 351

خطبات ناصر جلد چہارم ۳۵۱ خطبه جمعه ۱۱ راگست ۱۹۷۲ء کی برائی ہے اسے بیان کر و اصلاح کی خاطر اور اس کی جو خوبی ہے وہ بیان کرو دوسروں کے لئے ایک سبق کے طور پر۔بہر حال اگر کوئی میل یا کارخانہ ایک دن کے لئے بھی بند ہو جاتا ہے تو اس میں مالک بھی قصور وار ہے اس نے تالہ بندی کی نیم اجازت سے غلط فائدہ اٹھایا اور فساد کا موجب بنا دوسری طرف ہڑتال کرانے والا جو لیڈر ہے وہ بھی فساد کرنے والا ہے۔اس کو مزدور سے کوئی پیار نہیں ہوتا وہ مزدوروں سے کہتا ہے ہڑتال کر دو مگر خود گھر میں آرام سے بیٹھا رہتا ہے۔یہ دونوں پہلو موجب فساد ہیں ہم یہ کہتے ہیں کہ اسلام کہتا ہے مزدوروں کے سارے حقوق ادا کرو لیکن اسلام یہ بھی کہتا ہے مالک کے سارے حقوق بھی ادا کرو۔ہم یہ کہتے ہیں کہ اسلام کا یہ حکم ہے کہ مالک کے سارے حقوق ادا کرو لیکن ہم یہ بھی کہتے ہیں کہ اسلام یہ بھی کہتا ہے مزدور کے بھی سارے حقوق ادا کرو اور اس کی ہر تکلیف کو دور کر دو۔اس واسطے نہ اس سے پیار اس کے مالک ہونے کے لحاظ سے اور نہ مزدور سے پیار مزدور ہونے کے لحاظ سے ہمیں پیار ہے اپنے انسانی بھائی سے انسان ہونے کے لحاظ سے یعنی مزدور ہونے کی خصوصیت ہمارے اندر پیار نہیں پیدا کرتی۔مالک ہونے کی خصوصیت ہمارے دل میں ان کا پیار پیدا نہیں کرتی بلکہ خدا تعالیٰ کے پیدا کر دہ بندے ہونے کے لحاظ سے اور اس نوع سے تعلق رکھنے کی وجہ سے جسے اللہ تعالیٰ نے اشرف المخلوقات قرار دیا ہے۔اس لحاظ سے ہمارے دل میں ان کی محبت پیدا ہوتی ہے۔بحیثیت انسان دونوں کی عزت ہوگی۔البتہ جو شخص بھی ظلم کرے گا ہم اس کا ہاتھ پکڑنے کی کوشش کریں گے۔تاہم یہ صحیح ہے کہ آج کی دنیا میں زیادہ ظلم بیچارے مزدور ہی پر ہو رہا ہے۔یعنی غیر بھی اس کے لئے ظالم اور اپنے بھی ظالم۔میں نے کئی مزدور لیڈروں سے کہا کہ دیکھو انگلستان میں لوگ ہڑتال کرتے ہیں ان کے لیڈر کہتے ہیں تم فکر نہ کرو تمہیں جو تنخواہیں مل رہی تھی اس کے مطابق چھ مہینے کے پیسے ہمارے پاس موجود ہیں تم دو مہینے کے لئے ہڑتال کرو۔ہم تمہیں پیسے دیں گے یا انہوں نے بعض اور قسم کے فارمولے بنائے ہوئے ہیں۔اس سے فساد تو پیدا ہو گا مگر اس کی شدت وہ نہیں جو ہمارے ملک میں محسوس کی جاتی ہے۔یہاں مزدور لیڈر کہتے ہیں کہ ہڑتال کر دو مگر ہم روٹی ایک دن