خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 344 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 344

خطبات ناصر جلد چہارم ۳۴۴ خطبه جمعه ۱۱ را گست ۱۹۷۲ء ہمیں کچھ نہ کچھ ضرور سکھاتا ہے۔اگر ہماری جسمانی طاقتیں کسی لحاظ سے ہمارے مشاہدات کو ایک حد تک محدود کر دیں تو ہماری ذہنی نشو و نما اتنی وسیع نہیں ہو سکے گی جو دوسری صورتوں میں ممکن ہے۔پس حرث کے معنے بنیادی طور پر یہ ہیں کہ بنیادی ذرائع پیداوار کو ایسے رنگ میں استعمال کرنا کہ انسان کی تمام قو تیں اور صلاحیتیں اپنے اپنے دائرہ استعداد میں اپنے نشو ونما کے کمال کو پہنچے جائیں۔جہاں تک نسل کی ہلاکت کا سوال ہے۔نسل کے معنے ولد یا اولا دہی کے نہیں ہوتے نسل کے بنیادی اور حقیقی معنے جس سے آگے شاخوں کی طرح دوسرے معنے نکلتے ہیں (امام راغب لکھتے ہیں) یہ ہیں الْاِنْفِصَالُ عَنِ الشَّيْءِ “ کسی چیز سے علیحدہ ہو کر اس کا حصہ نہ رہنا نسل کہلاتا ہے۔یعنی اس رنگ میں حصہ نہ رہنا ور نہ تو بہت سارے پہلوؤں کے لحاظ سے حصہ رہتا ہے اسی وجہ سے جو شخص جگہ کو جلدی جلدی چھوڑے تو ہم کہتے ہیں وہ دوڑ رہا ہے۔عربی میں کہتے ہیں نَسَلَ - يَنْسَلُ إِذَا سَرَعَ یعنی جب آدمی تیزی سے دوڑنے کے نتیجہ میں جلدی جلدی جگہ بدلتا ہے تو اس کو نسل کہتے ہیں۔امام راغب نے مفردات میں ایک عجیب محاورہ دیا ہے۔دراصل میں اسی چیز کو نمایاں کرنا چاہتا ہوں۔چنانچہ امام راغب نے مفردات میں لکھا ہے کہ نسل کا لفظ اس محاورے میں استعمال ہوا ہے۔إِذَا طَلَبتَ فَضْلَ إِنْسَانٍ فَخُذُ مَا نَسَلَ لَكَ مِنْهُ عَفُوا یعنی اگر تم کسی آدمی کی بزرگی کو دیکھنا چاہو تو تم اس کے حسن سلوک کو دیکھو جو رضائے الہی کے لئے وہ تم سے کر رہا ہے۔تمہیں پتہ لگ جائے گا کہ وہ کس قسم کا انسان ہے۔دراصل عَفُوا کے معنے ہوتے ہیں رضائے الہی کے حصول کے لئے حسن سلوک کرنا۔کیونکہ عَفُوا کہیں تو اس سے 66 الْقَصْدُ لِتَنَاوُلِ الشَّیءِ “ مراد ہوتی ہے۔پس مَا نَسَلَ لَكَ مِنْهُ عَفُوًا کے معنے ہوں گے جو اس نے تجھ سے حسن سلوک کیا عفو کے طور پر یعنی کسی چیز کے حصول کے لئے تو چونکہ انسانی فضل رضائے الہی ہی کی بنیادوں پر استوار ہوتا ہے۔اس لئے میں نے اس کے یہ معنے کئے ہیں