خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 327
خطبات ناصر جلد چہارم ۳۲۷ خطبہ جمعہ ۲۸ جولائی ۱۹۷۲ء فتنہ وفساد اسلامی شریعت اور فطرتِ صحیحہ کے سراسر خلاف ہے خطبہ جمعہ فرموده ۲۸ / جولائی ۱۹۷۲ء بمقام سعید ہاؤس۔ایبٹ آباد تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔قرآن عظیم کی پیشن گوئیوں کے مطابق ہر شو اور ہر طرف بڑا ہی فتنہ اور فساد پھیلا ہوا ہے۔گھیراؤ اور جلاؤ ، تو ڑو اور پھوڑو، مارو اور پیٹو کا یہ مظاہرہ صرف ہمارے ملک ہی میں نہیں ہے بلکہ امریکہ میں بھی ہے بہت سے دوسرے ممالک میں بھی ہے۔بعض ملک ایسے بھی ہیں جنہوں نے اس رحجان کو سختی کے ساتھ روکا ہے تاہم یہ فساد اس زمانے کا فیشن بن چکا ہے۔غرض قرآن کریم نے اس زمانے کے متعلق یہی خبر دی تھی اور بتایا تھا کہ اسے اسلامی شریعت اور انسان کی فطرت صحیحہ پسند نہیں کرتی۔چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَاللهُ لَا يُحِبُّ الْفَسَادَ (البقرة : ۲۰۶) اللہ تعالیٰ فساد کو پسند نہیں کرتا۔اللہ تعالیٰ تمام صفاتِ حسنہ سے متصف ہے اس نے انسان کو اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی صفات کا مظہر بنے۔اس لئے اللہ تعالیٰ مفسد یعنی فساد کرنے والے آدمی کو پسند نہیں کرتا۔اس عالمین میں صفات باری کے جو جلوے انسان کے لئے ظاہر ہورہے ہیں۔فسادان سے متضاد ہے۔اللہ تعالیٰ کی صفات اور ان کے جلووں اور فساد کے درمیان تضاد پایا جاتا ہے۔