خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 320 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 320

خطبات ناصر جلد چہارم ۳۲۰ خطبہ جمعہ ۲۱؍ جولائی ۱۹۷۲ء غرض اس جہاد کبیر میں ہمیں انتہائی کوشش کرنی چاہیے تا کہ قرآن کریم کی عظمت دلوں میں بیٹھ جائے اور حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جو اعلیٰ مقام اور بلند ترین مرتبہ ہے، دُنیا اس سے آگاہ ہو جائے اور اللہ تعالیٰ کی توحید کا جھنڈا دنیا کے کونے کونے میں گاڑ دیا جائے۔پس دوست اس اہم اور بابرکت کام کے لئے انتہائی کوشش کریں ورنہ یہ جہاد جہاد کبیر نہیں ہوگا۔اس میں ہماری پوری کوشش صرف ہونی چاہیے۔اگر دو فیصد کمی رہ گئی تو وہ بھی خدا تعالیٰ کے نزد یک جہاد نہیں ہو گا۔عربی لغت کے لحاظ سے بھی جہاد نہیں ہوگا۔اسلامی اصطلاح کے لحاظ سے جہاد نہیں ہو گا۔اگر دنیا یہ سمجھے کہ یہ غریب، بے کس اور بے سہارا جماعت ہے۔اس کے پاس مادی سامان نہیں ہیں۔اس لئے مادی سامانوں کے ساتھ ہم اسلام کی اس فوج کو مٹا سکتے ہیں تو یہ اُن کی بڑی غلطی ہو گی۔اگر وہ عملاً ایسا کرنا چاہیں تو محض خدائے قادر و توانا پر بھروسہ رکھ کر محض اس کی طاقتوں پر کامل یقین کر کے اس کی قدرتوں کا عرفان رکھتے ہوئے اور دعاؤں کے ذریعہ اس کے فضل کو جذب کر کے دُنیا کو یہ نظارہ دکھا دو کہ مادی طاقتیں الہی منصوبوں کو کبھی پاش پاش نہیں کر سکتیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کا منصو بہ اور تدبیر ہی ہے جو ظلمات اور شیطانی منصوبوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے رکھ دیتی ہے۔یہ تو ایک ذیلی چیز تھی۔میرا اصل مضمون محنت ہے۔ہماری محنت یعنی ایک احمدی مسلمان کی محنت اور ایک اس شخص کی محنت میں جو اسلام پر ایمان نہیں لا تا زمین و آسمان کا فرق ہونا چاہیے۔محنت کو اپنی شدت میں بھی اور وسعت میں بھی اور اپنے اثر میں بھی انتہاء تک پہنچانا چاہیے ہر کام ایک ہی وار میں مکمل نہیں ہو جا تا بلکہ دنیا کے اکثر کام مرحلے وار مکمل ہوتے ہیں۔دُنیا میں ایسے لوگوں کی بڑی بھاری اکثریت ہے جو محنت کر کے آہستہ آہستہ ترقی کرتے اور اپنے انجام کو پہنچتے ہیں۔اسلامی تاریخ میں ہمیں مسلمان کی یہی شان نظر آتی ہے کہ جب وہ کوئی کام شروع کرتا ہے تو اسے انتہا تک پہنچاتا ہے جس طرح خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اپنے انجام بخیر ہونے کے لئے دُعا کرواسی طرح یہ بھی فرمایا ہے کہ خدا سے یہ بھی دُعا کرتے رہو کہ تمہارے ہر فعل کا انجام بخیر ہو تم اسے کامیابی کی آخری حد تک پہنچا سکو۔