خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 14 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 14

خطبات ناصر جلد چہارم ۱۴ خطبہ جمعہ ۱۴ /جنوری ۱۹۷۲ء صحابہ رضوان اللہ علیہم ایک ایسی قوم تھی جس میں ہمیں یہ خوبی نظر آتی ہے۔اگر کوئی شخص اپنے دائرہ استعداد سے نصف ورے رہ جاتا ہے یا دو تہائی ورے رہ جاتا ہے اس لکیر سے جو اس کے دائرہ کو معین کر رہی ہے تو وہ نا کام ہوجاتا ہے۔اگر وہ نصف تک رہ جاتا ہے تب بھی ناکام ہو گیا اور اگر وہ ۸۰ فی صد کی حد تک پہنچ جاتا ہے تب بھی وہ ایک لحاظ سے ناکام ہو گیا۔ہماری یو نیورسٹیاں ۳۳ فی صد نمبر لینے والوں کو پاس کر دیتی ہیں اس لئے میں نے یہ مثال دی ہے تا کہ بچے بھی سمجھ جائیں۔جو فرد اپنے دائرہ استعداد کے ایک تہائی تک بھی نہیں پہنچاوہ فیل ہے۔اگر چہ یہ غلط معیار ہے لیکن بہر حال وہ اس معیار کے مطابق فیل ہے ہمارا بچہ بھی اس کو سمجھ جائے گا کہ جس لڑکے نے ۳۰ فیصد نمبر لئے وہ نا کام ہو گیا۔اسی طرح جس قوم کے ۲۵ فی صد افراد نے اپنی صلاحیتوں کی ۸۰ فیصد نشوونما کی وہ قوم ہلاک ہو گئی۔غرض نجات کی معراج صلاحیتوں کی نشوونما کو انتہاء تک پہنچانا ہے۔یہ انسان کی دولت ہے۔یہ مادی دولت بھی ہے۔یہ ذہنی دولت بھی ہے۔یہ اخلاقی دولت بھی ہے اور یہ روحانی دولت بھی ہے۔اگر پاکستان کے سارے کے سارے شہری اپنی اپنی استعداد کے دائرہ کے اندر اپنی صلاحیتوں کی نشو ونما کو اپنی انتہا تک پہنچا دیں، تو ہمارا ملک دنیا کے امیر ترین ملکوں میں سے ہو جائے گا اور دُنیا کے حسین ترین ملکوں میں سے بھی ہو جائے گا کیونکہ اخلاقی لحاظ سے بھی ہم ایک ایسی مذہبی جماعت ہیں جس کا اسلام کے ساتھ تعلق ہے۔اس لئے اگر ہماری ذہنی اور ہماری اخلاقی اور ہماری روحانی نشوونما ہو گی تو مادی نشو ونما کے لحاظ سے اور مادی دولت کے لحاظ سے امریکہ بھی ہمارا مقابلہ نہیں کر سکے گا۔روس بھی ہمارا مقابلہ نہیں کر سکے گا، اور چین بھی ہمارا مقابلہ نہیں کر سکے گا کیونکہ اگر چہ یہ قومیں ڈ نیوی لحاظ سے بڑی آگے نکل چکی ہیں لیکن میں نے بڑا غور کیا ہے اور بالآخر میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ وہ ابھی بحیثیت مجموعی اپنے دائرہ استعداد کی انتہا تک نہیں پہنچے یعنی مادی لحاظ سے بھی، ذہنی لحاظ سے بھی ، اخلاقی لحاظ سے بھی اور روحانی لحاظ سے بھی اپنی نشو و نما کے کمال تک نہیں پہنچے۔اخلاقی اور روحانی لحاظ سے تو وہ بہت ہی پیچھے ہیں لیکن جسمانی اور ذہنی لحاظ سے بھی اپنے دائرہ استعداد کی انتہا تک نہیں پہنچے۔اگر ان کے مقابلے میں پاکستان بحیثیت مجموعی اپنے دائرہ استعداد کی انتہا کو