خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 13 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 13

خطبات ناصر جلد چہارم ۱۳ خطبہ جمعہ ۱۴ جنوری ۱۹۷۲ء تک پہنچ جاتا ہے۔لیکن اگر وہ اپنی صلاحیتوں کو نشوونما کے کمال تک نہیں پہنچا تا تو وہ بڑا بد قسمت ہے۔اُسے تکلیف اٹھانی پڑتی ہے۔اگر اللہ تعالیٰ نے کسی میں یہ صلاحیت رکھی ہو کہ وہ رات کے اندھیروں میں چھ گھنٹے اپنے رب کے حضور دعائیں کرنے کے باوجود اپنی دن کی ذمہ داریوں میں کوتا ہی نہیں ہونے دیتا۔تو ایسا انسان اگر چھ گھنٹے کی بجائے چار گھنٹے اللہ تعالیٰ کی عبادت میں گذارتا ہے تو وہ اپنے دائرہ استعداد کی انتہا کونہیں پہنچا۔اُس نے اپنے اوپر ظلم کیا کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے انعامات میں سے جو ایک تہائی زائد انعام لے سکتا تھا اس سے اُس نے خود کو محروم کر دیا۔اگر کوئی قوم ایسی ہو کہ اس کے سارے شہری، اس میں بسنے والے سب افراد اپنی صلاحیتوں کو اپنے اپنے دائرہ استعداد کی آخری حدود تک پہنچا دیں تو اس سے زیادہ کامیاب اور اس سے زیادہ شاندار نتائج دکھانے والی دُنیا میں اور کوئی قوم نہیں ہو سکتی۔حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے پر جب ہماری نگاہ پڑتی ہے تو ( یہ تو درست ہے کہ اُس وقت بھی منافق تھے اور کمزور ایمان والے بھی تھے لیکن ) ہم دیکھتے ہیں کہ اُس وقت بڑی بھاری اکثریت ایسی تھی جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اور تربیت میں اپنی صلاحیتوں کی نشوونما کو اپنی استعدادوں کے دائرہ کی جو آخری حد تھی، وہاں تک پہنچادیا تھا چنانچہ وہ قوم جو شروع میں مٹھی بھر تھی اور جس کا دُنیا کی آبادی کے لحاظ سے کوئی شمار تھا اور نہ اُن کی کوئی حقیقت تھی ، انہوں نے جب کسری سے ٹکر لی۔اُس وقت حضرت خالد بن ولید کے پاس اٹھارہ ہزار فوج تھی۔تھے تو وہ اٹھارہ ہزار مگر وہ ایسے تربیت یافتہ افراد تھے جنہوں نے اپنے دائرہ استعداد کی انتہا کو پالیا تھا ( جس کو میں نجات کی معراج کہتا ہوں ) اس لئے اُنہوں نے لاکھوں کی تعداد میں اور دنیوی اموال کی کثرت رکھنے والوں کے مقابلے میں اپنی برتری کو ثابت کیا جس کا مطلب یہ ہے کہ جو ایران کے باشندوں کی مجموعی صلاحیت تھی باوجود اس کے کہ وہ لاکھوں کی تعداد میں تھے مگر اُنکی مجموعی صلاحیت مسلمانوں کی صلاحیت کے مجموعہ سے کم تھی ورنہ مسلمان کبھی کامیاب نہ ہوتے پس جو قوم ایسی ہو کہ اس کے افراد خدا داد صلاحیتوں کی نشوونما اپنے دائرہ کے اندر انتہا کو پہنچادیں تو اس سے زیادہ کامیاب اور زیادہ خوبصورت اور حسین اور کوئی قوم نہیں ہو سکتی۔غرض یہ