خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 313
خطبات ناصر جلد چہارم ۳۱۳ خطبہ جمعہ ۲۱؍ جولائی ۱۹۷۲ء ایک نئی قوت اور طاقت بخشتا ہے زیادہ محنت کے ساتھ کام کرنے کی توفیق عطا کرتا ہے۔پس احباب جماعت سے میں یہ کہتا ہوں کہ محنت کرو! محنت کرو!! آج جماعت احمدیہ میں جتنی طاقت ہے اس کے مطابق کام کریں۔کیونکہ اسلام کا یہی منشاء ہے کہ تم میں آج جتنی طاقت ہے اس کے مطابق محنت کرو اور کل کی محنت اس سے بڑی ہونی چاہیے۔اس کے لئے تیاری کرو۔کیونکہ جہاد اور احسان نے مل کر ہمارے سامنے محنت کرنے کی تعلیم رکھی ہے۔جہاد کہتا ہے طاقت کے مطابق انتہائی کوشش کرو اور احسان کہتا ہے کہ اپنی طاقت میں وسعت اور شدت پیدا کرنے کی سعی کرو۔حسن علم و عمل کا یہی تقاضا ہے اس سے اللہ تعالیٰ کی نئی سے نئی صفات کا عرفان حاصل ہوتا ہے۔صفات باری کا عرفان ایک جگہ ٹھہرا ہوا نہیں ہے۔اگر ہم فکر وتد بر کرنے کے عادی ہوں اور ہمارا تعلق اپنے رب سے قائم ہو تو اس تعلق میں ہم ہر روز زیادہ شدت اور زیادہ مضبوطی پائیں گے ہمارا علم زیادہ خوبصورت ہو جائے گا۔اس حسین علم کے نتیجہ میں ہمارے عمل کے زیادہ سے زیادہ حسین ہونے کا امکان پیدا ہو جائے گا۔ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ زیادہ اچھا ہو جائے گا۔کیونکہ عمل کی اچھائی تو کام کرنے والے کی ہمت پر منحصر ہے اگر کسی آدمی نے جہاد کا اصول اپنایا اور انتہائی کوشش کے نتیجہ میں اس کی طاقت، صلاحیت اور استعداد بڑھ گئی ہے تو اس کا عمل بھی پہلے دن سے زیادہ حسین اور زیادہ حسین نتائج نکالنے والا بن جائے گا۔پس اسلام ہمیں یہ کہتا ہے کہ محنت کرو اور محنت کو اپنی طاقت کے مطابق انتہاء تک پہنچاؤ۔پھر اسلام ہمیں یہ بھی کہتا ہے کہ تمہاری طاقت ایک جگہ کھڑی نہیں ہونی چاہیے بلکہ اس طاقت اور قوت میں روز بروز اضافہ ہونا چاہیے تاکہ تمہاری قوت اور طاقت تمہاری استعدادوں اور صلاحیتوں کی کامل نشو و نما ہو سکے اور اس کے نتیجہ میں تمہارے علم و عمل میں استحکام ، شدت اور مضبوطی پیدا ہو جائے۔اسلام ہمیں یہ کہتا ہے کہ تمہیں اپنی صلاحیتوں اور استعدادوں کو کمال نشو ونما تک پہنچانے کے لئے ہر روز پہلے سے زیادہ عرفانِ الہی اور پہلے سے زیادہ حسنِ عمل کا مظاہرہ کرنا پڑے گا۔