خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 307
خطبات ناصر جلد چہارم ۳۰۷ خطبہ جمعہ ۲۱؍ جولائی ۱۹۷۲ء طاقت کے ساتھ روحانی اقدار کو کچلنے کی کوشش کرے تو اس تلوار کو خدا تعالیٰ کی استمداد سے اور دُعاؤں سے اللہ تعالیٰ کے فضل کو جذب کر کے توڑ دینا اور نا کام بنادینا۔یہ سب سے چھوٹا جہاد ہے اسی لئے اسے جہادِ اصغر کہتے ہیں۔میں یہ مختصراً بیان کر رہا ہوں۔اس لئے کہ ان تین قسم کے جہاد کے متعلق میں ایک بنیادی بات بیان کرنا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ خواہ نفس کے خلاف جہاد اکبر ہو یا قرآن عظیم کو ہاتھ میں پکڑ کر دُنیا میں نکل جانا یعنی جہاد کبیر ہو یا شیطانی طاقتوں کے مقابلے میں جب اللہ تعالی طاقت کے مقابلے میں طاقت استعمال کرنے کی اجازت دے یعنی جہادِ اصغر ہو، ایک چیز ان تینوں قسم کے جہاد میں مشترک ہے اور اسی کی طرف میں اس وقت اپنے مضمون کے سلسلہ میں یعنی محنت کے متعلق آپ کو تو جہ دلا نا چاہتا ہوں اور وہ ہے انتہائی کوشش کرنا۔پس اگر ہم اصلاح نفس کے جہاد میں جو جہاد اکبر ہے کوشش تو کریں مگر انتہائی کوشش نہ کریں۔اگر ہم اشاعت قرآن جو جہاد کبیر ہے اس میں کوشش تو کریں لیکن انتہائی کوشش نہ کریں۔اگر ہم دشمن اسلام کے مقابلے میں جو طاقت کے بل بوتے پر اسلام کو مٹانا اور مغلوب کرنا چاہتا ہے کوشش تو کریں مگر اپنی کوشش کو انتہا تک نہ پہنچائیں تو اس صورت میں کوئی سا بھی جہاد جہاد نہیں ہوگا۔عربی لغت کی رو سے وہ ایک عام کوشش تو ہوگی ، جہاد نہیں ہوگا۔کیونکہ جہاد کے معنے انتہائی کوشش کے ہوتے ہیں۔پس خدا تعالیٰ نے ہمیں جہاد کا حکم دیا ہے۔یہ ہماری اور ہمارے معاشرہ کی زندگی پر حاوی ہے۔جہاد کے اس حکم کی رو سے خدا تعالیٰ نے ہمیں صرف یہی نہیں فرمایا کہ کوشش کرو اور محنت کرو۔بلکہ اُس نے ہمیں یہ فرمایا ہے کہ انتہائی کوشش کرو اور انتہائی محنت کرو۔اگر کسی آدمی کی کوشش اور محنت اپنی انتہا کو نہیں پہنچتی تو اُس کا جہاد کوئی جہاد نہیں ہے۔ہمارا ہر نیک فعل جو اپنی کوشش اور محنت کے لحاظ سے اپنی انتہا کو پہنچ رہا ہو وہ اسلام میں آکر جہاد بن سکتا ہے یعنی رضائے الہی کے حصول کا ذریعہ بن سکتا ہے۔لیکن اگر ہمارا کوئی فعل اپنے اندرستی اور غفلت رکھتا ہو یا اس میں لا پرواہی کا عصر پایا جاتا ہو اور یہ بات ذہن میں حاضر نہ ہو کہ ہمیں محض محنت کا حکم نہیں دیا گیا بلکہ