خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 306
خطبات ناصر جلد چہارم خطبہ جمعہ ۲۱؍ جولائی ۱۹۷۲ء جب تک نفس سے کامیاب جہاد نہ ہو دوسرے دو جہاد عقلاً ممکن ہی نہیں۔پس نفس کے خلاف انسان کا جہاد یعنی شیطانی وساوس اور شیطان کی پیدا کردہ اہواء اور خواہشات کے خلاف جہاد کی کامیابی اور اصلاح نفس پر دوسرے ہر دو جہاد کی کامیابی کا دارو مدار ہے کیونکہ سب سے بڑا جہاد یہی ہے۔دوسرے دو جہاد اسی کی بنیاد پر اُٹھتے ہیں۔اس لئے اگر یہ بنیادی جہاد کا میاب نہ ہو تو دوسرے دو جہاد کی کامیابی کا امکان ہی نہیں۔اس لئے سب سے پہلے اپنے نفس کی اصلاح ضروری ہے۔دوسرا جہاد قرآن کریم اور اس کی اشاعت کا جہاد ہے اور اس کو جہاد کبیر کہتے ہیں۔یہ جہاد اکبر یعنی نفس کے جہاد سے اُبھرتا ہے۔ان کا آپس میں گہرا تعلق ہے کیونکہ نفس کے خلاف جہاد قرآنی تعلیم اور قرآنی انوار کے بغیر ممکن ہی نہیں۔تاہم جہاں تک نفس کے خلاف جہاد کا تعلق ہے یہ بہر حال مقدم ہے۔ورنہ تو یہ ماننا پڑے گا کہ خود عمل نہیں کرتے اور دوسروں کو نصیحت کرتے ہیں۔اس لئے قرآن کریم کی ہدایت کے مطابق ہوائے نفس کے خلاف جہاد یعنی اصلاح نفس اور قرآنی انوار کے ذریعہ شیطانی ظلمات کے خلاف جہاد آ پس میں لازم وملزوم ہیں۔جب انسانی خواہشات اور شیطانی وساوس انسانی نفس کو گھیرے میں لینے کی کوشش کرتے ہیں اور اُس کے اور اُس کے پیدا کرنے والے رب کے درمیان بعد پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ان سے بچنے کے لئے یعنی نفس کی اصلاح کے لئے انسان قرآن کریم کو ذریعہ بناتا ہے۔پھر قرآنی انوار کو پھیلا نا قرآنی انوار ہی کے ذریعہ ممکن ہے جیسا کہ کہا گیا ہے۔ع محمد هست بُرہان محمد اسی طرح یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ (جیسا کہ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے ) قرآنی انوار کی اشاعت اور قرآن کریم کی حکومت کو قائم کرنا قرآنی انوار کے بغیر ممکن نہیں۔چنانچہ جب اپنے نفس میں ان انوار کو جذب کر لیا تو پھر انہی انوار کو لے کر دنیا کی اصلاح کے لئے باہر جانا ہے اور اشاعت قرآن کرنی ہے اور یہ دوسری قسم کا جہاد ہے یعنی اصلاح نفس انسانی با نوار قرآنی۔تیسری قسم کا جہاد وہ ہے کہ جب شیطان اپنی تلوار میان سے نکالے اور مادی اور دُنیوی