خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 305
خطبات ناصر جلد چہارم ۳۰۵ خطبہ جمعہ ۲۱؍ جولائی ۱۹۷۲ء خدا کی خوشنودی اور اس کی رضا کے حصول کے لئے اپنی کوششوں کو انتہا تک پہنچا دیں خطبه جمعه فرموده ۲۱ / جولائی ۱۹۷۲ء بمقام مسجد اقصی۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔اسلام میں محنت کرنے پر بڑا زور دیا گیا ہے۔چنانچہ جب ہم قرآنِ عظیم پر غور کرتے ہیں تو دو با تیں اس مضمون کو واضح کرتی نظر آتی ہیں۔ایک یہ بات کہی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں اللہ تعالیٰ کے لئے جہاد کا حق ادا کرو اور دوسرے یہ حکم دیا گیا ہے کہ احسان کرو اللہ تعالیٰ احسان کرنے والوں سے محبت اور پیار کرتا ہے۔لفظ ”جہاد“ اور احسان پر جب ہم مجموعی طور پر غور کرتے ہیں تو محنت کرو! محنت کرو!! محنت کرو!!! کا مضمون واضح ہو کر ہمارے سامنے آجاتا ہے۔جہاں تک جہاد کا تعلق ہے اسے تین اقسام میں منقسم کیا گیا ہے۔پہلا جہاد تو بنیادی طور پر نفس کے خلاف جہاد ہے یعنی ایسی خواہشات نفسانیہ جو فطرتِ انسانی اور رضائے الہی کے خلاف ہوں اُن کا مقابلہ کرنا، اُن کو دبا دینا اور اُن کا اثر قبول نہ کرنا۔اس سے بڑھ کر یہ کہ اُسے اپنے دائرہ استعداد کے اندر رفعت کے انتہائی مقام پر پہنچا کر اللہ تعالیٰ کے انتہائی پیار کو حاصل کرنا یہ ایک بنیادی جہاد ہے جسے جہاد کبر کہتے ہیں۔یہیں سے جہاد کی بنیا د شروع ہوتی ہے اور اس کے اوپر پھر دوسرے جہاد کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔