خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 12 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 12

خطبات ناصر جلد چہارم ۱۲ خطبہ جمعہ ۱۴ /جنوری ۱۹۷۲ء کچھ نشو و نما باپ کی تربیت سے حاصل کرتا ہے اور اس کی کچھ نشو ونما اچھے ماحول کے اچھے اثرات سے ہوتی ہے اور اُس کی بہت کچھ نشو ونما اُس کی اپنی کوشش اور جدو جہد پر منحصر ہوتی ہے۔بہر حال صلاحیت ایک بیج ہوتا ہے جس کی شکلیں اور اس کے مختلف پہلو آہستہ آہستہ Unfold ( آن فولڈ ) ہوتے ہیں یعنی ہمارے سامنے آتے ہیں۔گویا پہلے وہ چھپی ہوئی چیزیں تھیں جو بعد میں سامنے آگئیں۔اصولی طور پر صلاحیت ایک دولت ہے اس زندگی کی بھی اور اُس زندگی کی بھی۔مثلاً دو ڈاکٹر ہیں۔اب اُن کی فطرت اور طبیعت کا میلان اور ذہنی رحجان طب کی طرف تھا۔اُنہوں نے ایک دوسرے کے مقابلے پر آکر محنت کی پھر وہ پاس ہو گئے۔پھر انہوں نے پریکٹس شروع کر دی چنانچہ وہ مالدار بن گئے۔دیکھو ایک ڈاکٹر کی دولت اس کی طبی صلاحیت کا نتیجہ ہے لیکن اس میں ہمیں ایک اور چیز بھی نظر آتی ہے اور وہ یہ ہے کہ ہر شخص محدود صلاحیتیں رکھتا ہے اور یہ چیز حد باندھنے والی یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف راہنمائی کرنے والی ہے۔ہر شخص کی صلاحیتوں کا دائرہ ایک جیسا نہیں ہوتا۔ہر شخص کی صلاحیتوں کا دائرہ مختلف ہوتا ہے۔مثلاً طبی میدان میں ہی دیکھو۔ایک ڈاکٹر ہے، وہ دس ہزار روپے ماہوار کمارہا ہے اور اسی کی کلاس میں پڑھا ہوا اس کا ایک دوسرا ساتھی اور دوست ڈاکٹر ہے جو ہمیشہ روتا رہتا ہے کہتا ہے میں تو بھوکا مررہا ہوں میری آمدنی کافی نہیں ہے میں اپنی پوری کوشش کے باوجود ہزار روپے کما رہا ہوں۔پس یہ تفاوت دراصل اس واسطے ہے کہ حد باندھنے والا اللہ تعالیٰ تھا اور اُس نے ہر ایک ڈاکٹر کی صلاحیت کا ایک دائرہ بنادیا ہے اور فرمایا ہے کہ تم اس سے آگے نہیں جاؤ گے۔اس سے آگے جانا تمہارے لئے ممکن ہی نہیں۔اس کو ہم دائر کہ استعداد بھی کہتے ہیں لیکن جیسا کہ میں نے بتایا ہے میں ساری قوتوں اور استعدادوں کو صلاحیت کے نام سے ذکر کروں گا۔پس ہر ایک آدمی کا ایک دائرہ صلاحیت ہوتا ہے اور وہ اس سے آگے نہیں بڑھ سکتا لیکن دائرہ صلاحیت سے ورے ورے رہ سکتا ہے اور یہیں انسان اپنے اوپر ظلم کرتا ہے جس سے قومیں تباہ ہو جاتی ہیں۔اگر کوئی فردا اپنی صلاحیتوں کی نشو ونما کو اپنے دائرہ استعداد کی آخری حد تک پہنچا دیتا ہے تو وہ اپنی نجات کی معراج