خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 298 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 298

خطبات ناصر جلد چہارم ۲۹۸ خطبہ جمعہ ۱۴؍ جولائی ۱۹۷۲ء نتیجہ میں نئی سے نئی فلسفیانہ بخشیں بڑی نمایاں ہو کر ہمارے سامنے آرہی ہیں۔خاص طور پر اقتصادی اور معاشرتی تعلقات کے بارے میں نئے سے نیا فلسفہ سامنے آ رہا ہے۔مذہبی لحاظ سے بھی مثلاً حضرت موسیٰ علیہ السلام نے یہود سے کہا تھا کہ دیکھنا کسی یہودی سے سود نہ لینا اس حکم کے اندر اقتصادی اور معاشرتی دونوں پہلو پائے جاتے ہیں لیکن اسلام کا یہ کمال ہے کہ اس نے کہا کسی سے بھی سود نہیں لینا۔پس آج کا جو معاشرہ ہے اس کی تفصیل میں تو اس وقت جانے کا وقت نہیں لیکن اتنی بات تو ہر کوئی جانتا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر اس وقت اقتصادی اور معاشرتی تعلقات کے لحاظ سے جو سرمایہ دارانہ نظام ہے اس کا اشترا کی نظام سے بڑا ز بر دست Clash (کلیش ) ہے۔اس ٹکراؤ کی وجہ سے وہ ایک دوسرے کے بہر حال خیر خواہ نہیں ہیں۔وہ اپنے آپ کو ہلاکت سے بچانے کے لئے اگر دوستی کا ہاتھ بڑھا ئیں تو یہ خیر خواہی نہیں اور چیز ہے۔میں نے پہلے بھی کئی دفعہ بتایا ہے۔میں جب ۱۹۷۰ء میں افریقہ کے دورے پر گیا تھا تو فرینکفورٹ سے لیگوس تک چھ گھنٹے دس منٹ کی بڑی لمبی فلائٹ تھی۔ہماری پچھلی سیٹ پر دو بوڑھے امریکن بیٹھے ہوئے تھے ان سے تعارف ہوا۔پھر باتیں شروع ہوگئیں۔باتوں باتوں میں میں نے اُن سے کہا کہ یہ سوچ کر انسان حیران ہوتا ہے کہ انسان انسان سے پیار کرنا کب سیکھے گا چونکہ وہ پڑھے لکھے اور سمجھ دار لوگ ہیں فوراً سمجھ گئے کہ اس نے ہم پر سخت طعن کیا ہے۔چنانچہ ان میں سے ایک کہنے لگا اب تو ہمارے تعلقات روس سے اچھے ہو رہے ہیں۔میں نے کہا۔Out of fear, Not of love خوف کی وجہ سے تمہارے تعلقات اچھے ہو رہے ہیں پیار کی وجہ سے تو تمہارے تعلقات اچھے نہیں ہو رہے۔وہ بے اختیار کہنے لگا کہ یہ بات آپ ٹھیک کہتے ہیں۔تاہم یہ تسلیم کر لیں کہ ایک قدم صحیح جہت کی طرف اُٹھایا گیا ہے میں نے کہا ہاں! میں یہ تسلیم کرتا ہوں کہ ایک قدم صحیح جہت کی طرف اُٹھایا گیا ہے لیکن ایک ہی قدم اٹھایا گیا ہے یعنی میری وہی بات آگئی کہ یہ ایک جزوی حرکت ہے کلی حرکت نہیں ہے۔پھر اسی طرح آج کا جو فلاسفر ہے وہ مختلف گروہوں میں بٹ گیا ہے اور اپنے اپنے حالات کے