خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 284 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 284

خطبات ناصر جلد چہارم ۲۸۴ خطبہ جمعہ ۷ جولائی ۱۹۷۲ء مہجور نہیں رہے گا بلکہ یہ ہماری ہی نہیں ہر انسان کی روح کا سرور، ذہنوں کا نور اور سپنوں کی ٹھنڈک بن جائے گا۔انشاء اللہ۔ایک سادہ بغیر ترجمہ کے قرآن کریم ہے جو ہمارے اطفال الاحمد یہ یعنی چھوٹے بچوں کے لئے ہے وہ اس سے ناظرہ قرآن پڑھنا سیکھ سکتے ہیں۔یہ سادہ قرآن کریم ایک لاکھ سے زیادہ لگنا چاہیے کسی اور کے چھپوائے ہوئے قرآن کریم سے ہم نے مقاطعہ نہیں کیا ہوا۔ہم اپنے اس سادہ قرآن کریم کو اس لئے ترجیح دیتے ہیں کہ ہمارے بچے قاعدہ یسرنا القرآن سے قرآن کریم سیکھتے ہیں اور یہ حمائل سائز سادہ قرآن کریم ، قاعده سیسرنا القرآن کے رسم الخط پر شائع کیا گیا ہے اس سے بچوں کو سہولت رہتی ہے اور آسانی سے قرآن کریم کی طرف اُن کی علمی جدوجہد منتقل ہو جاتی ہے چنانچہ شروع میں جب اس رسم الخط پر حمائل سائز پیج قرآن کریم چھپ کر آیا تو مجھے فکر تھی کہ چھوٹا سائز ہونے کی وجہ سے بچے شاید اس کو پڑھ نہ سکیں۔میں نے اپنے گھر میں اپنی ہمشیرگان سے کہا کہ جو بچے گھروں میں قاعدہ میسر نا القرآن پڑھتے ہیں اور ان کی پڑھائی قرآن کریم کی طرف منتقل ہونے والی ہے ان کو حمائل سائز میں یہ قرآن کریم پڑھا کر دیکھیں وہ انکیں گے تو نہیں ؟ لیکن مجھے کسی کی طرف سے یہ رپورٹ نہیں ملی کہ اسے پڑھتے وقت کوئی بچہ اٹکا ہو۔سب نے یہی کہا کہ قاعدہ میسر نا القرآن کی وجہ سے بچے اس قرآن کریم کو آسانی کے ساتھ پڑھ لیتے ہیں۔پس ایک لاکھ سے زیادہ تو ہمیں یہی سادہ قرآن کریم پھیلا دینا چاہیے میں چاہتا ہوں کہ آپ مجھے تنگ کریں اور کہیں کہ شائع کرنے والے سستی کیوں کرتے ہیں؟ ہماری ضرورت کیوں پوری نہیں ہوتی ؟ بہر حال میری سکیم یہ تھی کہ دو ہزار روپے فی تحصیل جمع ہوں اور یہ اُن کا سرمایہ ہوگا اور اس میں اگر کچھ کم ہو جائے تو اتنا ہر سال پورا کر لیا جائے مثلاً اگر آپ نے سو آدمیوں کو چھ روپے کی بجائے پانچ روپے میں قرآن کریم دیئے تو اس طرح سورو پہیہ آپ کے اصل سرمایہ میں سے کم ہو جائے گا۔اگلے سال اس کو آپ نے پورا کرنا ہے۔دو ہزار روپے نہیں جمع کرنے ایک سوروپے مزید جمع کر کے دو ہزار روپے کے اصل سرمایہ کو برقرار رکھنا ہے ایک سال میں دو ہزار کیا اس کو چکر