خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 277 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 277

خطبات ناصر جلد چہارم ۲۷۷ خطبہ جمعہ ۷ جولائی ۱۹۷۲ء طرح قرآن کریم کے حق میں یہ تبدیلی اپنی جگہ ایک صداقت ہے اور دُنیا میں جو ایک انقلاب بپا ہو رہا ہے یہ اس کا ایک اہم حصہ ہے۔قرآن کریم کی تفسیر واشاعت پر ایک لمبا زمانہ گزر گیا۔اس عرصہ میں ہم نے قرآن کریم میں اتنی دلچسپی پیدا کر دی کہ اگر ترجمہ متن کے پیچھے چلے تو یہ اس کی اشاعت میں روک نہیں بنے گا۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کی زیر نگرانی تیار ہونے والا وہ انگریزی ترجمہ جس کے متعلق میں نے بتایا ہے کہ وہ ضائع ہو گیا تھا وہ مولوی محمد علی صاحب نے اپنا کر کے شائع کیا تھا میرے خیال میں ۱۹۵۵ ء تک اس انگریزی ترجمہ کے چالیس پچاس ہزار نسخے شائع کئے جاسکے ان کے اعداد و شمار اکٹھے کروا رہا ہوں۔خود ہمارا جو پہلا ترجمہ تھا وہ بھی چند ہزار کی تعداد میں چھپا تھا اس سے زیادہ نہیں چھپ سکا تھا جس کا مطلب یہ ہے کہ جو چوٹی کے پڑھے لکھے لوگ تھے ہم صرف ان تک انگریزی اور چند دوسری زبانوں میں ترجمہ قرآن کریم پہنچا سکے۔اب پہلی دفعہ میں نے حالات کو دیکھ کر ترجمہ کی طرز میں تبدیلی کی چنانچہ اب قرآن کریم کا ترجمہ متن کے پیچھے چل رہا ہے یعنی سورۃ الحمد پہلے صفحہ پر ہے آخری صفحے پر نہیں۔یہ بھی اللہ تعالیٰ کا فضل ہے ابھی اس کی پہلے کی طرح تو اشاعت نہیں ہوئی۔اس پر کچھ وقت لگے گا۔قرآن کریم کے ہزاروں نسخے سمندروں کی لہروں پر موجیں کر رہے ہیں اور ابھی تک منزل مقصود پر نہیں پہنچے تاہم پچھلے تین چار مہینوں میں چالیس ہزار سے زیادہ تعداد میں بک چکے ہیں۔اَلحَمدُ لِلهِ۔تاہم یہ تو میرا ایک جائزہ تھا ایک Assessment(ایس منٹ ) تھی، ایک خیال تھا کہ ہم نے یہ انقلاب پیدا کر دیا اور قرآن کریم سے اتنی دلچسپی پیدا ہو چکی ہے کہ اگر ہم دائیں سے بائیں انگریزی لکھنا شروع کر دیں گے تو ان کو اس کا کوئی احساس نہیں ہو گا۔چنانچہ افریقہ میں ہم نے جو نمونے بھیجے تھے وہ پڑھے لکھے افریقنوں نے زبردستی چھین لئے۔کچھ قرآن کریم کے انگریزی ترجمے کے نسخے یورپ میں بھیجے تھے۔جرمنی کے نو مسلم نواحمد یوں میں سے بعض کے مجھے خط آئے ہیں کہ ہم نے کیا قصور کیا ہے۔آپ نے حمائل سائز میں انگریزی ترجمہ شائع کر دیا ہے مگر جرمن ترجمہ قرآن کریم ابھی تک شائع نہیں کیا۔ان کے خطوط سے علاوہ اور