خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 268
خطبات ناصر جلد چہارم ۲۶۸ خطبہ جمعہ ۷ / جولائی ۱۹۷۲ء ނ کے ساتھ میرا کوئی تعلق نہیں۔دوسرے یہ کہ انسان کی دلی کیفیت یہ ہو کہ اُس کا قرآن عظیم۔کوئی تعلق نہ ہو اور تیسرے یہ کہ زبان سے بھی کہنا اور دل سے بھی زبانِ حال سے یہی تاثر دینا کہ کوئی تعلق نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس عظیم قرآن کے ساتھ بھی لوگ تعلق قائم نہیں رکھتے اور اس۔قطع تعلق کر لیتے ہیں حالانکہ قرآن کریم کی تو یہ عظمت اور شان ہے کہ وہ اپنی عظمت کا خود دعویٰ کرتا اور پھر اس کے حق میں دلائل بھی دیتا ہے۔قرآن عظیم اللہ تعالیٰ کی آخری ہدایت اور ایک کامل اور مکمل شریعت ہے۔اس نے اپنی عظمت کے متعلق اور اپنی شان کے متعلق اور اپنی افادیت کے متعلق اور اپنی ہمہ گیری کے متعلق اور تمام اقوام سے اپنے تعلق کے بارے میں اور پھر ہر زمانے سے اس کا جو تعلق ہے اس کے بارے میں خود دعوی کیا ہے اور پھر دلائل سے اس کو ثابت بھی کیا ہے۔قرآن کریم نے ایک بڑا ہی عجیب اور حسین دعوی یہ کیا ہے کہ انسان کی عقل ناقص ہے اور اس کی دلیل یہ دی ہے کہ دیکھو چوٹی کے عظمند ہر مسئلہ کے متعلق اختلاف کرتے ہیں چنا نچہ انسانوں کا باہمی اختلاف خصوصاً اُن انسانوں کا جو صاحب عقل وفراست سمجھے جاتے ہیں، بڑے علم و تدبر والے سمجھے جاتے ہیں۔اُن کا باہمی اختلاف اس بات کی دلیل ہے کہ اُن کی عقل ناقص ہے۔اگر انسانی عقل ناقص نہ ہوتی تو وہ ایک ہی نتیجہ پر پہنچتی لیکن چونکہ وہ ناقص ہے اور صراط مستقیم کو کبھی چھوڑ بھی دیتی ہے اور راہ راست سے بھٹک جاتی ہے اس لئے وہ متضاد نتائج پر پہنچتی ہے۔اسی واسطے اللہ تعالیٰ کی ہستی کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس عقلی دلیل کو بار بار اور بڑی وضاحت سے مختلف پیرایوں میں بیان فرمایا ہے اور وہ یہ ہے کہ ”خدا ہونا چاہیے اور ”خدا ہے میں بڑا فرق ہے۔اللہ تعالیٰ کی ہستی کے متعلق انسانی عقل زیادہ سے زیادہ صرف ” خدا ہونا چاہیے تک پہنچتی ہے یعنی انسانی عقل دنیا کی مختلف چیزوں کو دیکھ کر یہ نتیجہ نکالتی ہے کہ خدا ہونا چاہیے۔جب کہ دوسرے انسان کہتے ہیں کہ خدا نہیں ہونا چاہیے اور یہ بھی اپنے حق میں عقلی دلیلیں دیتے ہیں۔