خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 267
خطبات ناصر جلد چہارم ۲۶۷ خطبہ جمعہ ۷ جولائی ۱۹۷۲ء مجھے اور آپ کو خدا نے اس لئے پیدا کیا ہے کہ قرآن کریم کی عظمت کو دُنیا میں دوبارہ قائم کیا جائے خطبہ جمعہ فرمودہ ۷ جولائی ۱۹۷۲ء بمقام سعید ہاؤس، کاکول۔ایبٹ آباد تشہد وتعوذ اور سورۂ فاتحہ کے بعد حضور انور نے مندرجہ ذیل آیات تلاوت فرمائیں :۔وَقَالَ الرَّسُولُ يُرَبّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا - (الفرقان: ۳۱) وَمَا أَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَبَ إِلَّا لِتُبَيِّنَ لَهُمُ الَّذِي اخْتَلَفُوا فِيْهِ وَهُدًى وَرَحْمَةً لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ - (النحل : ۶۵) اور پھر فرمایا:۔انسان کے ساتھ بیماری لگی ہوئی ہے۔دو ایک روز سے مجھے انفلوئنزا کی تکلیف ہے۔گو پہلے سے کچھ افاقہ ہے لیکن ابھی تکلیف جاری ہے۔سر بھاری اور طبیعت بے چین رہتی ہے۔دوست دعا کریں اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے صحت عطا فرمائے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ رسول نے کہا اے میرے رب ! میری یہ قوم قرآن کریم کو مہجور بنا رہی ہے۔مہجور کا مصدر ہجر ہے اور عربی لغت کے لحاظ سے اس کے معنے زبان سے یا دل سے یا دونوں سے قطع تعلق کرنے کے ہوتے ہیں۔اس لحاظ سے ھجر کے تین معنے ہو جائیں گے۔ایک یہ کہ زبان سے کہنا کہ قرآن کریم