خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 266
خطبات ناصر جلد چہارم ۲۶۶ خطبه جمعه ۳۰/ جون ۱۹۷۲ء اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی شکل میں ایک بہترین کتاب اتاری ہے ، جس نے پہلی صداقتوں کو بھی اپنے اندر لیا ہوا ہے اور ایک نئی اور عظیم تعلیم بھی اس کے اندر پائی جاتی ہے۔انسان کو یہ حکم دیا پہلے ذکر آچکا ہے ) کہ کامل عبادت اور حقیقی اطاعت کے سب سامان اور وسائل اس کتاب میں رکھ دیئے گئے ہیں۔لیکن اس کے اثر کو قبول کرنے کے لئے دو چیزیں بڑی ضروری ہیں۔ایک اللہ تعالیٰ کی خشیت اور دوسرے اللہ تعالیٰ سے ذاتی اور خالص محبت اور جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں کہ ان دونوں چیزوں کی بھی ایک ابتداء ہے اور ایک انتہا ہے جسے پانا( ہر شخص کے دائرہ استعداد میں ) ممکن ہے۔لیکن جو شخص ابتدا نہیں کرتا وہ انتہا تک پہنچنے کی امید نہیں رکھ سکتا۔پس ہمارے وہ بچے جو میرے آج کے خطبہ کے پہلے مخاطب ہیں خصوصاً اور ہر احمدی عموماً یا در کھے کہ وہ اپنی عمر اور تربیت کے لحاظ سے اس سلسلہ میں ابتداء کر چکے ہیں۔اب اُن کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنی حرکت میں کمی واقع نہ ہونے دیں۔بلکہ خشیت اللہ اور محبت ذاتیہ الہیہ میں ترقی کرتے چلے جائیں تا کہ وہ ہر روز اللہ تعالیٰ کے ایک نئے اور بڑے پیار کو حاصل کریں اور اس کے حسن کا نیا جلوہ دیکھیں اور اللہ تعالیٰ کی عظمت اور جلال کے نئے سے نئے جلوے متواتر دیکھتے چلے جائیں تا کہ ایک طرف ان کی ذات اور اُن کا وجود فنا ہو جائے اور دوسری طرف خدا تعالیٰ کے پیار کے نتیجہ میں وہ ابدی زندگی کو حاصل کرنے والے ہوں۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔قرآن کریم کے پڑھنے کی بھی توفیق بخشے اور قرآن کریم کے اثر کو قبول کرنے کی بھی توفیق عطا فرمائے۔اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں میں اپنی خشیت بھی پیدا کرے اور ہمارے دلوں میں اپنی محبت ذاتی بھی پیدا کرے اور وہ اپنے فضل سے ہماری اس خشیت اور محبت الہی کو دن بدن بڑھاتا چلا جائے اور اللہ تعالیٰ کے فرشتے ہماری حفاظت کرنے والے ہوں تا کہ شیطان کا کوئی منصوبہ اس خشیت اور محبت کے مقابلہ میں کامیاب نہ ہو۔(روز نامه الفضل ربوه ۱۳ جولائی ۱۹۷۲ء صفحہ ۲ تا ۴)