خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 255 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 255

خطبات ناصر جلد چہارم ۲۵۵ خطبہ جمعہ ۲۳ جون ۱۹۷۲ء پھر کفر کفر میں فرق ہے۔قرآن کریم نے اسے بیان کیا ہے۔قرآن کریم کی تفسیر میں حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیان فرمایا ہے اسی طرح نفاق نفاق میں فرق ہے کسی آدمی کا دل پتھر کی طرح سخت ہوتا ہے اس کے دل کو نرم کرنے کے لئے وَاغْلُظْ عَلَيْهِمْ پر عمل کرنا پڑے گا۔کسی کے متعلق فرمایا کہ ان کے کان بہرے یا ان کے کانوں میں ثقل اور بوجھ ہے۔یا کسی کے متعلق فرمایا وہ اندھے ہیں۔اُن کی آنکھیں نہیں۔پس جس شخص کا کفر یا نفاق اندھے آدمی کے مشابہ ہے۔پہلے اس کی بینائی کی فکر کرنی پڑے گی۔یعنی وہ طریق اختیار کرنا پڑے گا جس کی اسلام نے ہمیں تعلیم دی ہے جو آدمی سنتا نہیں اس کے سامنے وہ تعلیم پیش کرنی پڑے گی جو قرآن کریم نے یہ کہہ کر ہمارے سامنے رکھی ہے کہ جو نہیں سنتے اُن کے سامنے یہ تعلیم رکھو۔پس اگر ہم نے اسلام کی تبلیغ و اشاعت میں کامیاب ہونا ہے تو ہمیں اپنے اصلاح وارشاد کے کام کا ایک نئے سرے سے جائزہ لے کر ایک نئی مہم چلانی پڑے گی۔بعض دوستوں کا ابھی تک یہ حال ہے کہ اگر کسی سے جا کر ملیں تو جاتے ہی مثلاً حیات و وفات مسیح کے مسئلے پر بحث شروع کر دیتے ہیں۔کوئی شریف آدمی ہو تو وہ چپ کر کے سنتا رہتا ہے۔جب آدھا گھنٹہ گزر جائے تو وہ کہتا ہے میں تو پہلے ہی وفات مسیح کا قائل چکا ہوں آپ نے خواہ مخواہ آدھا گھنٹہ ضائع کیا۔غرض اب ایک تبدیلی رونما ہوئی ہے۔سوائے چند سخت متعصب لوگوں کے کسی بھی سمجھدار پڑھے لکھے آدمی کے ساتھ آپ بات کریں گے تو وہ کہے گا میں پہلے ہی حضرت مسیح کو وفات یافتہ سمجھتا ہوں۔یہ تو پاگلوں والی بات تھی کہ کسی انسان کو زندہ سمجھا جاتا اور آسمان پر بٹھا دیا جاتا۔ستر ، اسی فیصد بلکہ اس سے بھی شاید زیادہ لوگ اس مسئلے پر ہمارے مؤقف کے قائل ہو گئے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے فضل کیا ہے۔ہم اس حد تک کامیاب ہو گئے ہیں۔اب ایک اور بڑی اچھی رو پیدا ہو رہی ہے خصوصاً پاکستان کے نوجوانوں میں۔وہ کہہ رہے ہیں کہ ختم نبوت کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔زیادہ سے زیادہ یہ فرق ہے کہ احمدیوں سے پہلے اسلام میں مختلف فرقوں نے خاتم النبیین کے مختلف معانی کئے ، احمدیوں نے بھی اپنا ایک معنی کر