خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 232 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 232

خطبات ناصر جلد چہارم ۲۳۲ خطبہ جمعہ ۱۹ رمئی ۱۹۷۲ء پس یہ ہے ایک مسلمان کی ذہنیت۔یہ ہے ایک مسلمان کی شان اور یہ ہے ایک احمدی کا طر کا امتیاز۔اس لئے تم محنت کرو، محنت کرو، محنت کرو، اور اسے بچو تم بھی محنت کرو، پھر علم کے میدان میں، اخلاق کے میدان میں اور ہدایت پانے اور دینے کے میدان میں تم کسی سے پیچھے نہیں رہو گے بلکہ آگے ہی آگے نکلتے چلے جاؤ گے میرے بھائی اور بزرگ بھی محنت کریں۔وہ دُنیا کمائیں تو خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے اور پھر جو کمائیں وہ خدا تعالیٰ کے قدموں میں قربانی کی شکل میں لا رکھیں کیونکہ اسی میں ہماری راحت ، اسی میں ہمارا سکون ہے اور یہی ہماری جنت ہے۔ہمارا نیا مالی سال شروع ہو چکا ہے۔اس میں بھی ہمارا قدم پیچھے نہیں بلکہ آگے بڑھنا چاہیے لیکن اگر ہمارا قدم آگے بڑھنا ہے تو ہمارے زمیندار کی زمین کی پیداوار زیادہ ہونی چاہیے۔ہمارے مزدور کو مزدوری زیادہ ملنی چاہیے تاہم مزدوری زیادہ ملتی ہے فراست کی زیادتی کی وجہ سے مثلاً ایک شخص اپنی فراست اور توجہ اور دُعا کے نتیجہ میں Unskilled Labour ( ان سکلڈ لیبر ) کے گروپ میں سے نکل کر سکلڈ لیبر میں داخل ہو جاتا ہے تو اس کی تنخواہ ڈیڑھ گنا زیادہ ہوتی ہے۔اسی طرح مثلاً ایک ڈاکٹر ہے، وہ خلق خدا سے پیار کرنے کے نتیجہ میں زیادہ کما لیتا ہے کیونکہ ساٹھ روپے فیس رکھنے سے ڈاکٹر زیادہ نہیں کما یا کرتے جب کسی ڈاکٹر کی ساٹھ روپے فیس ہوتی ہے تو اس کے پاس دو چار مریض جاتے ہیں کیونکہ جس کے پاس بہت زیادہ مال و دولت ہو گی وہی ساٹھ روپے فیس دے سکتا ہے اور وہی اس کے پاس جائے گا۔غریب تو نہیں جاسکتا۔جرمنی میں ایک بوڑھے ڈاکٹر تھے جنہوں نے آپریشن کر کے میرے گلے سے غدود نکالے تھے اور یہ غالباً ۶ ۳ ء کی سردیوں کی بات ہے۔میں حیران ہو گیا۔اُنہوں نے اتنے امیر ملک میں اپنی فیس صرف دو روپے رکھی ہوئی تھی مگر ان ساٹھ روپے فیس لینے والے ظالم ڈاکٹروں سے وہ زیادہ کما رہے تھے۔کیونکہ وہ خدمت خلق کے جذبہ کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل کو زیادہ حاصل کر رہے تھے۔ان ساٹھ روپے فیس لینے والے ڈاکٹروں کے پاس تو دو تین مریض آتے ہیں۔مگر ان کے پاس روزانہ سود وسو مریض آتے تھے اور اس طرح روزانہ ۳، ۴ سو مارک کی کمائی تھی