خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 217
خطبات ناصر جلد چہارم ۲۱۷ خطبہ جمعہ ۱۲ رمئی ۱۹۷۲ء - اعتراض کرنے لگ جاتے ہیں۔دوسرے وہ سمجھتے ہیں کہ ان حالات میں موقع مل گیا ہے مالی قربانیوں میں کمزوری دکھانے کا۔وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ بڑا اچھا موقع ہے پیسے بچالو۔اگر کسی نے پوچھا تو کہہ دیں گے تجارتوں پر بڑا اثر پڑا ہے یا کہہ دیں گے پیشے پر برا اثر پڑا ہے یا کہہ دیں گے صنعت وحرفت پر برا اثر پڑا ہے یا کہہ دیں گے کہ جنگ کی وجہ سے ہمیں اُٹھنا پڑا یا ہمارے دوستوں کو اُٹھنا پڑا ہے۔سورہ تو بہ کے شروع میں منافقوں کا ذکر ہے پھر منافقوں کے متعلق بہت ساری باتوں کے ذکر کے بعد ( جن کا بیان کرنا میرے اس مضمون کے ساتھ تعلق نہیں رکھتا ) اللہ تعالیٰ ان آیات میں جن کی میں نے تلاوت کی ہے فرماتا ہے کہ اعراب یعنی دیہاتوں میں رہنے والے لوگوں میں سے بھی بعض منافق ہوتے ہیں۔اصل مضمون یہ نہیں کہ دیہات میں رہنے والے منافق ہوتے ہیں بلکہ اس سے مراد نفاق کی ایک علامت ہے جس کا یہاں ذکر ہورہا ہے اور اس سے دونوں قسم کے منافق مراد ہیں یعنی دیہاتی بھی اور شہری بھی۔دیہات میں بھی جہالت کی وجہ سے کمزور ایمان والے یا منافقت رکھنے والے پائے جاتے ہیں کیونکہ منافقت کی اجارہ داری شہروں نے تو نہیں لی ہوئی۔منافق تو ہر جگہ ہوتا ہے۔غرض منافق اور کمزور ایمان والے آدمی کو تو بہانہ چاہیے۔قرآن کریم نے ان کی اسی ذہنیت کی طرف اشارہ کیا ہے۔فرماتا ہے:۔يَتَرَبَّصُ بِكُمُ اللوَاہر ایسے لوگ گردشوں کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں ایک تو اس لئے کہ باتیں بنانے اور اعتراض کرنے کا موقع ملے اور دوسرے اس لئے بھی کہ ان کے دلوں میں جو مخالفت کا پہلو ہے اس کی تسلی کے سامان پیدا ہو جائیں اور زیادہ تر اس لئے بھی کہ ایسے حالات میں وہ سمجھتے ہیں کہ اگر پہلے وہ جماعتی نظام کے دباؤ کے نیچے مجبور ہو کر خدا کی راہ میں مالی قربانی دیتے تھے تو اب بچاؤ کی ایک صورت پیدا ہو گئی ہے چنانچہ وہ اس سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس قسم کے جو لوگ ہیں، انہیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ الہی سلسلوں پر گردشیں تو آتی ہی رہتی ہیں لیکن مومن کے اوپر جب گردش آئے تو یہ اس کو امتحان سمجھتا ہے اور فرسٹ ڈویثرن یعنی اول آنے کی کوشش کرتا ہے اور جو منافق ہوتا ہے وہ اس کو قربانی سے بچنے کا